سنن ترمذي
كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
باب مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ باب: گواہی مدعی پر اور قسم مدعیٰ علیہ پر ہے۔
حدیث نمبر: 1341
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي , وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " . هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ , ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا : ” گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث کی سند میں کلام ہے ۔ محمد بن عبیداللہ عرزمی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں ۔ ابن مبارک وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´گواہی مدعی پر اور قسم مدعیٰ علیہ پر ہے۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ” گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1341]
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ” گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1341]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(شواہد اورمتابعات کی بناپر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ’’محمد بن عبیداللہ عزرمی‘‘ ضعیف ہیں، دیکھئے: الارواء رقم: 2641)
نوٹ:
(شواہد اورمتابعات کی بناپر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ’’محمد بن عبیداللہ عزرمی‘‘ ضعیف ہیں، دیکھئے: الارواء رقم: 2641)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1341 سے ماخوذ ہے۔