سنن ترمذي
كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَائِضِ تَتَنَاوَلُ الشَّيْءَ مِنَ الْمَسْجِدِ باب: حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ : قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " قَالَتْ : قُلْتُ : إِنِّي حَائِضٌ , قَالَ : " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا فِي ذَلِكَ بِأَنْ لَا بَأْسَ أَنْ تَتَنَاوَلَ الْحَائِضُ شَيْئًا مِنَ الْمَسْجِدِ .´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” مسجد سے مجھے بوریا اٹھا کر دو “ ، تو میں نے عرض کیا : میں حائضہ ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عائشہ رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے ۔ ہم اس مسئلہ میں کہ ” حائضہ کے مسجد سے کوئی چیز اٹھانے میں کوئی حرج نہیں “ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا دو “، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 384]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے مسجد سے چٹائی دے دو “، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 272]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دو“، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 261]
مسئلہ: حائضہ یا جنبی اگر ہاتھ لمبا کر کے مسجد میں سے کوئی چیز اٹھائے یا رکھے تو جائز ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا کر دے دو “، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے حیض کی گندگی تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 632]
حیض ونفاس کی حالت میں عورت کے لیے مسجد میں داخل ہونا منع ہے۔
(2)
مسجد سے باہر کھڑے ہوکر مسجد سے ضرورت کی کوئی چیز اٹھا لینا یا مسجد میں کوئی چیز رکھ دینا مسجد میں داخل ہونے کی حکم میں نہیں بلکہ یہ جائز ہے۔