سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْغِشِّ فِي الْبُيُوعِ باب: بیع میں دھوکہ دینے کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا ، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا ، فَقَالَ : " يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ مَا هَذَا " ، قَالَ : أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ " ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي الْحَمْرَاءِ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَبُرَيْدَةَ ، وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، كَرِهُوا الْغِشَّ وَقَالُوا : الْغِشُّ حَرَامٌ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے ، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کر دیا ، آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں تو آپ نے فرمایا : ” غلہ والے ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ “ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بارش سے بھیگ گیا ہے ، آپ نے فرمایا : ” اسے اوپر کیوں نہیں کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” جو دھوکہ دے ۱؎ ، ہم میں سے نہیں ہے “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲ - اس باب میں ابن عمر ، ابوحمراء ، ابن عباس ، بریدہ ، ابوبردہ بن دینار اور حذیفہ بن یمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ وہ دھوکہ دھڑی کو ناپسند کرتے ہیں اور اسے حرام کہتے ہیں ۔
۲؎: " ہم میں سے نہیں "، کا مطلب ہے مسلمانوں کے طریقے پر نہیں، اس کا یہ فعل مسلمان کے فعل کے منافی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کر دیا، آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں تو آپ نے فرمایا: " غلہ والے! یہ کیا معاملہ ہے؟ " اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش سے بھیگ گیا ہے، آپ نے فرمایا: " اسے اوپر کیوں نہیں کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں "، پھر آپ نے فرمایا: " جو دھوکہ دے ۱؎، ہم میں سے نہیں ہے " ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1315]
وضاحت:
1؎:
بیع میں دھوکہ دہی کی مختلف صورتیں ہیں، مثلاً سودے میں کوئی عیب ہو اسے ظاہر نہ کرنا، اچھے مال میں ردّی اورگھٹیا مال کی ملاوٹ کردینا، سودے میں کسی اورچیزکی ملاوٹ کردینا تاکہ اس کا وزن زیادہ ہوجائے وغیرہ وغیرہ۔
2؎:
’’ہم میں سے نہیں‘‘ کا مطلب ہے مسلمانوں کے طریقے پر نہیں، اس کا یہ فعل مسلمان کے فعل کے منافی ہے۔
اس حدیث میں دھوکے کی ایک صورت بیان کی گئی ہے جسکے تحت بہت ساری جزئیات آجاتی ہیں، کہ اوپر چیز اچھی ہے جو نظر آرہی ہے، اور نیچے والی چیز جو نظر نہیں آرہی، وہ ناقص یا نکمی ہے، اس طرح ملاوٹ وآمیزش، جعل سازی، ملمع سازی، خرید وفروخت کی وہ تمام شکلیں جن میں دھوکا اور فراڈ پایا جاتا ہے، اس حدیث کے تحت آتی ہیں۔
اور بدقسمتی سے مسلمان بلا خوف وخطر دھڑلے سے ان کا ارتکاب کر رہے ہیں، اور ہر طرف دھوکا وفریب کا بازار گرم ہے، لیکن مسلمانوں کو احساس نہیں کہ یہ کتنا بڑا جرم ہے کہ کوئی صحیح اور کامل مومن سے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو گیہوں (غلہ) بیچ رہا تھا، آپ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو وہ «مغشوش» (غیر خالص اور دھوکے والا گڑبڑ) تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو دھوکہ فریب دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2224]
فوائد و مسائل:
(1)
عالم اور حکمران کو عوام کے حالات سے براہ راست آگاہی حاسل کرنا اور ان کی غلطیوں پر بروقت تنبیہ کرنا ضروری ہے۔
(2)
غلے میں دھوکا یہ تھا کہ بارش میں کچھ غلہ بھیگ گیا تھا۔
غلے کے مالک نے خشک غلہ اوپر کر دیا، اس طرح گیلا نیچے چھپ گیا۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، الإيمان، باب قول النبيﷺ من غشنا فليس منا، حديث: 101)
(2)
دھوکے کی کئی صورتیں ہیں، وہ سب حرام ہیں، مثلاً: جھوٹ کو چرب زبانی سے سچ ثابت کرنے کی کوشش کرنا، باطل کو حق کے رنگ میں پیش کرنا، سودے کا عیب ظاہر نہ کرنا اور اچھے مال میں ادنیٰ اور نکما مال ملا کر عمدہ مال کی قیمت وصول کرنا۔
وغیرہ
(4)
’’ہم میں سے نہیں۔‘‘
کا مطلب ہے کہ وہ مومنوں کے طریقے پر نہیں۔
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں (فَلَیْسَ مِنِّیْ)
’’وہ مجھ سے نہیں‘‘ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ وہ میرے طریقے پر نہیں، میرے امتی کو یہ حرکت زیب نہیں دیتی، اس لیے ہر مسلمان کو ہر قسم کی دھوکا دہی سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(5)
امتحان میں ناجائز ذرائع، نقل وغیرہ اختیار کرنا، یا ممتحن کا طالب علم کو اس کے استحقاق سے زیادہ نمبردے دینا بھی دھوکے میں شامل ہے۔
اس سے مستحق افراد کی حق تلفی ہوتی ہے۔
اس حدیث میں یہ واضح بیان ہے کہ اہل علم کو منڈیوں اور کھیتوں میں بھی جانا چاہیے، اور جہاں شک گزرے وہاں تحقیق کی غرض سے مال کی پرکھ کرنی چاہیے، اگر کسی نے دونمبر مال رکھا ہو اور دھوکا دے رہا ہو تو اس کی مذمت کرنی چاہیے، اور لوگوں کو شریعت سے باخبر کرنا چاہیے۔
آج کل ہر آدمی دھوکا دے رہا ہے، الا من رحم ربی، زمیندار بھی بے شمار جگہوں پر دھوکا دیتے ہیں، جب مال منڈی میں لاتے ہیں تو دو نمبر مال اندر رکھ دیتے ہیں اور ایک نمبر چیز اوپر رکھتے ہیں۔ بلکہ بعض دنیا دار تاجر ہلدی میں مکئی کو پیس دیتے ہیں، اور دودھ میں ملاوٹ تو بہت ہی عام ہے، بس اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو ہدایت عطا فرمائے آمین۔