سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ وَالرِّفْقِ بِهِ باب: تنگ دست قرض دار کو مہلت دینے اور تقاضے میں نرمی کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا ، وَكَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ ، وَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ ، أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ تَجَاوَزُوا عَنْهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو .´ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سے پہلی امتوں میں سے ایک آدمی کا حساب ( اس کی موت کے بعد ) لیا گیا ، تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ملی ، سوائے اس کے کہ وہ ایک مالدار آدمی تھا ، لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ ( تقاضے کے وقت ) تنگ دست سے درگزر کریں ، تو اللہ تعالیٰ نے ( فرشتوں سے ) فرمایا : ہم اس سے زیادہ اس کے ( درگزر کے ) حقدار ہیں ، تم لوگ اسے معاف کر دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔