سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ باب: (ترازو) جھکا کر (زیادہ) تولنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ : جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ ، فَجَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ وَعِنْدِي وَزَّانٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ جَابِرٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ سُوَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ الرُّجْحَانَ فِي الْوَزْنِ ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ سِمَاكٍ، فَقَالَ : عَنْ أَبِي صَفْوَانَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ .´سوید بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں اور مخرمہ عبدی دونوں مقام ہجر سے ایک کپڑا لے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے ہم سے ایک پائجامے کا مول بھاؤ کیا ۔ میرے پاس ایک تولنے ولا تھا جو اجرت لے کر تولتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تولنے والے سے فرمایا : ” جھکا کر تول “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- سوید رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اہل علم جھکا کر تولنے کو مستحب سمجھتے ہیں ، ۳- اس باب میں جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۴- اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو سماک سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے «عن سوید بن قیس» کی جگہ «عن ابی صفوان» کہا ہے پھر آگے حدیث ذکر کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سوید بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی رضی اللہ عنہ دونوں ہجر سے کپڑا لائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے ہم سے پاجاموں کا مول بھاؤ کیا، ہمارے پاس ایک تولنے والا تھا جو اجرت لے کر تولتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” او تولنے والے! تولو اور پلڑا جھکا کر تولو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2220]
فوائد و مسائل:
(1)
کپڑے کی تجارت شرعاً جائز ہے۔
(2)
درآمد برآمد کا کاروبار جائز ہے۔
(3)
شلوار ایک اچھا لباس ہے۔
(4)
ماپنے تولنے کی اجرت لینا جائز ہے، اور اس طرح ہر وہ کام جس میں جسمانی محنت ہو اور وہ شرعی لحاظ سے جائز ہو، اس کی مزدوری لینا درست ہے۔
(5)
تولتے وقت جھکتا تولنا حسن اخلاق میں شامل ہے۔
لیکن کم تول کر دینا بددیانتی اور کبیرہ گناہ ہے۔
سوید بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی رضی اللہ عنہ مقام ہجر سے کپڑا لائے، ہم منیٰ میں تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، وہاں ایک تولنے والا تھا جو اجرت پر تول رہا تھا، تو آپ نے ہم سے پاجامہ خریدا اور تولنے والے سے فرمایا: ” جھکتا ہوا تولو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4596]
(2) حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ کپڑے کی تجارت شرعاً جائز ہے اور یہ حلال روزی کمانے کا بہترین ذریعہ بھی ہے، نیز دوسرے ممالک سے مال منگوانے کی مشروعیت پر بھی دلالت کرتی ہے، یعنی درآمد و برآمد کا کاروبار، شرعاً درست ہے۔
(3) یہ حدیث مبارکہ جس طرح جھکتا تول کر دینے کے استحباب پر دلالت کرتی ہے بعینہٖ اسی طرح کم تول کر دینے کی کراہت اور اس کے غیر مشروع ہونے پر بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ اس طرح انسان کی حق تلفی ہوتی ہے جو کبیرہ گناہ ہے۔
(4) ”اجرت پر تول رہا تھا۔“ یعنی قیمت میں سونا چاندی تول رہا تھا اور وہ تولنے کے پیسے لیتا تھا۔ اس سے خریدار کو ادائیگی کی سہولت ہوتی تھی کیونکہ قیمت کا تول خریدار کے ذمہ ہوتا ہے جبکہ سامانِ فروخت کا تول بیچنے والے کے ذمے۔ یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں کہ تولنے والا قیمت تول تول کر لے رہا تھا۔ اس صورت میں بیچنے والوں نے اسے مقرر کیا ہوگا۔
(5) ”شلوار خریدی“ ظاہر ہے پہننے کے لیے خریدی ہوگی، تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ گھر کے کسی اور فرد کے لیے خریدی ہو۔ آپ سے شلوار کی تعریف ثابت ہے کہ یہ پردے والا لباس ہے۔
(6) ”جھکا کر دے“ تاکہ کمی کا احتمال نہ رہے۔ اور یہ حکم وزن کے علاوہ ماپ اور پیمائش میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ دینے والے کو چاہیے کہ ان میں بھی کچھ زائد ہی دے۔