سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّجْشِ فِي الْبُيُوعِ باب: بیع میں نجش کے حرام ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ قُتَيْبَةُ : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَنَاجَشُوا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا النَّجْشَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَالنَّجْشُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ الَّذِي يَفْصِلُ السِّلْعَةَ إِلَى صَاحِبِ السِّلْعَةِ ، فَيَسْتَامُ بِأَكْثَرَ مِمَّا تَسْوَى وَذَلِكَ عِنْدَمَا يَحْضُرُهُ الْمُشْتَرِي ، يُرِيدُ أَنْ يَغْتَرَّ الْمُشْتَرِي بِهِ ، وَلَيْسَ مِنْ رَأْيِهِ الشِّرَاءُ ، إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَخْدَعَ الْمُشْتَرِيَ بِمَا يَسْتَامُ ، وَهَذَا ضَرْبٌ مِنَ الْخَدِيعَةِ ، قَالَ الشَّافِعِيُّ : وَإِنْ نَجَشَ رَجَلٌ فَالنَّاجِشُ آثِمٌ فِيمَا يَصْنَعُ ، وَالْبَيْعُ جَائِزٌ لِأَنَّ الْبَائِعَ غَيْرُ النَّاجِشِ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نجش نہ کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ان لوگوں نے «نجش» کو ناجائز کہا ہے ، ۴- «نجش» یہ ہے کہ ایسا آدمی جو سامان کے اچھے برے کی تمیز رکھتا ہو سامان والے کے پاس آئے اور اصل قیمت سے بڑھا کر سامان کی قیمت لگائے اور یہ ایسے وقت ہو جب خریدار اس کے پاس موجود ہو ، مقصد صرف یہ ہو کہ اس سے خریدار دھوکہ کھا جائے اور وہ ( دام بڑھا چڑھا کر لگانے والا ) خریدنے کا خیال نہ رکھتا ہو بلکہ صرف یہ چاہتا ہو کہ اس کی قیمت لگانے کی وجہ سے خریدار دھوکہ کھا جائے ۔ یہ دھوکہ ہی کی ایک قسم ہے ، ۵- شافعی کہتے ہیں : اگر کوئی آدمی «نجش» کرتا ہے تو اپنے اس فعل کی وجہ سے وہ یعنی «نجش» کرنے والا گنہگار ہو گا اور بیع جائز ہو گی ، اس لیے کہ بیچنے والا تو «نجش» نہیں کر رہا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نجش نہ کرو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3438]
1۔
(نجش) کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص بظاہر خریدار بن کرمعاملہ کرنے والوں کے درمیان قیمت زیادہ دینے کی پیش کش کردے۔
حالانکہ وہ حقیقی خریدار نہ ہو۔
اور حقیقی خریدار اس دھوکے میں آکر کہ لوگ زیادہ دے رہے ہیں۔
زیادہ قیمت کے عوض خریدنے پر آمادہ ہوجائے۔
بعض اوقات اس قسم کے لوگ خود دوکانداروں کی طرف سے بازار میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔
یہ عمل اسلامی امانت اور دیانت کے خلاف ہے۔
منڈی کے عوامل کی آزادی میں رکاوٹ ہے اور دھوکا ہے۔
اس لئے حرام ہے۔
2۔
البتہ نیلا عام (بیع من یزید) میں حقیقی خریدار ایک دوسرے سے بڑھ کربولی دیں تو یہ جائز ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آپس میں بیع نجش نہ کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2174]
فوائد و مسائل:
(1)
بولی بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مال خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتا، وہ بولی میں حصہ لے اور جتنی قیمت پہلے پیش کی جا چکی ہے، اس سے زیادہ پیش کرے تاکہ ضرورت مند خریدار ا سے زیادہ قیمت دینے پر امادہ ہو جائے۔
(2)
یہ عمل اس لیے منع ہے کہ اس میں دھوکا ہے اور خریدار کا نقصان ہے۔
(3)
بولی دے کر چیز بیچنا جائز ہے۔