حدیث نمبر: 1301
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ " ، أَوْ كَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق سے کم میں عرایا کے بیچنے کی اجازت دی ہے یا ایسے ہی کچھ آپ نے فرمایا ۔ راوی کو شک ہے کہ حدیث کے یہی الفاظ ہیں یا کچھ فرق ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1301
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح أحاديث البيوع
تخریج حدیث «صحیح البخاری/البیوع 83 (2190) ، والشرب والمساقاة 17 (2382) ، صحیح مسلم/البیوع 14 (1541) ، سنن ابی داود/ البیوع 21 (3364) ، سنن النسائی/البیوع 35 (4545) ، ( تحفة الأشراف : 14943) ، و مسند احمد (2/237) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2190 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2190. عبیداللہ بن ربیع نے امام مالک سے پوچھا: کیا آپ سے داود نے سفیان سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیع عرایا کی اجازت دی ہے بشرط یہ کہ وہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم ہوں؟انھوں(امام مالک ؒ) نے کہا: ہاں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2190]
حدیث حاشیہ: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔
ایک صاع پونے چھ رطل کا۔
جیسا کہ اوپر گزراہے اکثر خیرات اس کے اندر کی جاتی ہے تو آپ نے یہ حد مقرر فرما دی۔
ابوحنيفہ ؒ کا یہ کہنا کہ عرایا کی حدیث منسوخ ہے یا معارض ہے مزابنہ کی حدیث کے، صحیح نہیں۔
کیوں کہ نسخ کے لیے تقدیم تاخیر ثابت کرنا ضروری ہے اور معارضہ جب ہوتا کہ مزابنہ کی نہی کے ساتھ عرایا کا استثناء نہ کیا جاتا۔
جب آنحضرت ﷺ نے مزابنہ سے منع فرماتے وقت عرایا کو مستثنی کردیا تو اب تعارض کہاں رہا۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: قَالَ بن الْمُنْذِرِ ادَّعَى الْكُوفِيُّونَ أَنَّ بَيْعَ الْعَرَايَا مَنْسُوخٌ بِنَهْيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَهَذَا مَرْدُودٌ لِأَنَّ الَّذِي رَوَى النَّهْيَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ هُوَ الَّذِي رَوَى الرُّخْصَةَ فِي الْعَرَايَا فَأَثْبَتَ النَّهْيَ وَالرُّخْصَةَ مَعًا قُلْتُ وَرِوَايَةُ سَالِمٍ الْمَاضِيَةُ فِي الْبَابِ الَّذِي قَبْلَهُ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ الرُّخْصَةَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا وَقَعَ بَعْدَ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثَّمر بِالتَّمْرِ وَلَفظه عَن بن عُمَرَ مَرْفُوعًا وَلَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ قَالَ وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ وَهَذَا هُوَ الَّذِي يَقْتَضِيهِ لَفْظُ الرُّخْصَةِ فَإِنَّهَا تَكُونُ بَعْدَ مَنْعٍ وَكَذَلِكَ بَقِيَّةُ الْأَحَادِيثِ الَّتِي وَقَعَ فِيهَا اسْتِثْنَاءُ الْعَرَايَا بَعْدَ ذِكْرِ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَقَدْ قَدَّمْتُ إِيضَاحَ ذَلِكَ۔
(الفتح الباري)
یعنی بقول ابن منذر اہل کوفہ کا یہ دعویٰ کہ بیع عرایا کی اجازت منسوخ ہے اس لیے کہ آنحضرت ﷺ نے درخت پر کی کھجوروں کو سوکھی کھجوروں کے بدلے میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
اور اہل کوفہ کا یہ دعویٰ مردو د ہے اس لیے کہ نہی کی روایت کرنے والے روای ہی نے بیع عرایا کی رخصت بھی روایت کی ہے۔
پس انہوں نے نہی اور رخصت ہر دو کو اپنی اپنی جگہ ثابت رکھا ہے اور میں کہتا ہوں کہ سالم کی روایت جو بیع عرایا کی رخصت میں مذکور ہو چکی ہے، وہ بیع الثمر بالتمر کی نہی کے بعد کی ہے اور ان کے لفظ ابن عمر ؓ سے مرفوعاً یہ ہے کہ نہ بیچو (درخت پر کی)
کھجور کو خشک کھجور سے۔
کہا کہ زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کے بعد بیع عرایا کی رخصت دے دی، اور یہ رخصت ممانعت کے بعد کی ہے اور اسی طرح بقایا احادیث ہیں جن میں بیع الثمر بالتمر کے بعد بیع عرایا کی رخصت کا مستثنی ہونا مذکور ہے اور میں (ابن حجر)
واضح طور پر پہلے بھی اسے بیان کر چکا ہوں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2190 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2190 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2190. عبیداللہ بن ربیع نے امام مالک سے پوچھا: کیا آپ سے داود نے سفیان سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیع عرایا کی اجازت دی ہے بشرط یہ کہ وہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم ہوں؟انھوں(امام مالک ؒ) نے کہا: ہاں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2190]
حدیث حاشیہ:
(1)
کھجور جب درخت پر ہوتو اسے خشک کھجور کے عوض خریدنا منع ہے، البتہ اسے درہم ودینار اور دیگر سامان کے عوض خریدنا جائز ہے۔
حدیث میں اگر چہ سونے چاندی کا ذکر ہے لیکن وہ امر واقعہ کے اعتبار سے ہے کیونکہ اس وقت لوگ درہم و دینار کے ذریعے سے معاملات کرتے تھے۔
ممانعت صرف تازہ پھل کی خشک پھل کے عوض ہے، البتہ عرایا کو ایک محدود مقدار میں پھلوں کے عوض خریدا جاسکتا ہے۔
دوسری حدیث میں پانچ وسق یا اس سے کم کی مقدار بیان ہوئی ہے، اس لیے اگر درخت پر لگی کھجوروں کا اندازہ پانچ وسق یا اس سے کم کا ہو تو بیع عرایا جائز ہے اس سے زیادہ کی جائز نہیں، تاہم احتیاط کا تقاضا ہے کہ اس کا جواز پانچ سے کم میں محدود کردیا جائے۔
(2)
بعض فقہاء کے نزدیک بیع عرایا منسوخ ہے۔
ان احادیث کے پیش نظر ان کا موقف محل نظر ہے۔
نیز نسخ کے لیے تقدیم وتاخیر کو ثابت کرنا ضروری ہے جبکہ اس سے قبل حدیث میں ممانعت کے بعد رخصت کا واضح ذکر ہے۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2184،2183)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2190 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1541 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی بیع کی اندازہ کر کے رخصت دی۔ بشرطیکہ پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق ہو۔ یہ شک حدیث کے راوی داؤد بن الحصین کو ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3892]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بیع عرایا میں مقدار کی تعیین بھی اس کے بیع ہونے کی دلیل ہے جو احناف کو بھی قبول ہے۔
اس لیے اس کو ہبہ کی تبدیلی بنانا محض حیلے بہانے ہیں۔
اس لیے کوئی اس مقدار کو قبول کرتا ہے، اور کوئی کہتا ہے، اس حدیث سے اس مقدار سے زائد کی بیع (ھبہ کی واپسی)
کی نفی ثابت نہیں ہوتی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1541 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3364 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بیع عریہ کس مقدار تک درست ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک عرایا کے بیچنے کی رخصت دی ہے (یہ شک داود بن حصین کو ہوا ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جابر کی حدیث میں چار وسق تک ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3364]
فوائد ومسائل:
ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔
اور ایک صاع تقریبا ڈھائی کلو کا اس حساب سے ایک وسق کا وزن تقریبا 150 کلو اور پانچ وسق کا وزن تقریبا 750 کلو تقریبا 19 من ہواس دور میں 5 وسق ایک اونٹ کا بوجھ سمجھا جاتا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3364 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4545 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عاریت والی بیع میں تازہ کھجور دینے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت والی بیع میں (یہ) اجازت دی کہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم کھجور اندازہ لگا کر کے بیچی جائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4545]
اردو حاشہ: (1) وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ اور صاع ایک پیمانہ ہوتا تھا جو تقریباََ سوا دو یا اڑھائی کلو کا ہوتا تھا۔ اس لحاظ سے و سق پندرہ یا اٹھارہ من کا ہو گا۔ گویا پندرہ بیس من تک (پرانے سیر کے حساب سے) اس بیع کی اجازت ہے کیونکہ اتنی کھجوریں کھانے کے لیے رکھی جاتی ہیں۔ یہ رخصت چونکہ غرباء کی مجبوری کے پیش نظر ہے، اس لیے زیادہ مقدار میں اس کی اجازت نہیں۔
(2) پانچ و سق یا پانچ و سق سے کم مقصد یہ ہے کہ پانچ و سق سے زائد میں اس رخصت سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4545 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 492 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´بیع عرایا`
«. . .ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ارخص فى بيع العرايا بخرصها فيما دون خمسة اوسق؛ او فى خمسة اوسق شك داود فى خمسة او دون خمسة. . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «عَريهّ» والے کو درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں یا انگوروں کو اندازے سے (اُکّا) بیچنے کی اجازت دی بشرطیکہ یہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم ہوں، پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم میں داود (بن الحصین راوی)کو شک ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 492]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 2190، ومسلم 75/541، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ کھجور کا درخت جس کا پھل مالک کسی دوسرے شخص کو بطور تحفہ یا بطور صدقہ عاریتاً کھانے کے لئے دے تو وہ عُریہ کہلاتا ہے جس کی جمع عرایا ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ انگور وغیرہ پھلوں میں بھی ہو سکتا ہے۔
➋ محمد بن اسحاق بن یسار المدنی نے فرمایا: عریہ سے مراد یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی کو کھجوروں کے درخت ہبہ کر دے پھر اس شخص پر ان کی دیکھ بھال مشکل ہو تو وہ اندازے سے کھجوریں لے کر انھیں بیچ دے۔ [سنن ابي داؤد: 3366 وسنده صحيح]
➌ بعض علماء کہتے ہیں کہ عُریہ صرف اسی کو بیچنے کی اجازت ہے جس نے کسی دوست یا غریب کو یہ درخت اس سال کے پھل کے لئے تحفتاً دیا ہے یعنی یہ سودا صرف مالک ہی کر سکتا ہے۔
➍ یہ حدیث آنے والی حدیث [158] کے عموم کی تخصیص ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 157 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 713 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´بیع عرایا، درختوں اور (ان کے) پھلوں کی بیع میں رخصت`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا میں اجازت و رخصت عنایت فرما دی۔ بایں صورت کہ تازہ کھجوروں کو خشک کے عوض اندازے سے فروخت کر لیا جائے، جبکہ یہ پانچ وسق کی مقدار سے کم ہوں، یا پھر پانچ وسق ہوں۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 713»
تخریج:
«أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الثمر علي رؤوس النخل بالذهب أو الفضة، حديث:2190، ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر إلا في العرايا، حديث:1541.»
تشریح: 1. اس حدیث میں پانچ وسق سے کم یا زیادہ سے زیادہ پانچ وسق تک فروخت کی اجازت ہے‘ مگر یہ راوی کا شک ہے۔
جس راوی کو شک ہے اس کا نام داود بن حصین ہے۔
اس شک کی وجہ سے پانچ وسق سے کم مقدار کی فروخت ہی درست ہوگی۔
ایک وسق میں تقریباً چار من ہوتے ہیں تو پانچ وسق کی مقدار تقریباً بیس من ہوئی۔
اس طرح گویا بیس من سے کم تک کی فروخت کی اجازت ہے۔
2. اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خرص‘ یعنی اندازہ و تخمینہ شرع میں جائز ہے بشرطیکہ تخمینہ لگانے والا اس فن سے بخوبی واقفیت رکھتا ہو اور کسی کی رو رعایت کیے بغیر ایمان داری سے اندازہ لگاتا ہو‘ ایسی صورت میں ایک آدمی کا تخمینہ بھی درست تسلیم کیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 713 سے ماخوذ ہے۔