حدیث نمبر: 1295
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ عَشْرَةً عَاصِرَهَا ، وَمُعْتَصِرَهَا ، وَشَارِبَهَا ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ ، وَسَاقِيَهَا ، وَبَائِعَهَا ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا ، وَالْمُشْتَرِي لَهَا ، وَالْمُشْتَرَاةُ لَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ ، وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی وجہ سے ” دس آدمیوں پر لعنت بھیجی : اس کے نچوڑوانے والے پر ، اس کے پینے والے پر ، اس کے لے جانے والے پر ، اس کے منگوانے والے پر ، اور جس کے لیے لے جائی جائے اس پر ، اس کے پلانے والے پر ، اور اس کے بیچنے والے پر ، اس کی قیمت کھانے والے پر ، اس کو خریدنے والے پر اور جس کے لیے خریدی گئی ہو اس پر “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث انس رضی الله عنہ کی روایت سے غریب ہے ، ۲- اور اسی حدیث کی طرح ابن عباس ، ابن مسعود اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی مروی ہے جسے یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1295
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، ابن ماجة (3381)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الأشربة 6 (3381) ، ( تحفة الأشراف : 900) (حسن صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3381

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3381 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´شراب پر دس طرح سے لعنت ہے۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر شراب کی وجہ سے لعنت فرمائی: اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اور اس پر جس کے لیے نچوڑی جائے، اسے لے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے لیے لے جائی جائے، بیچنے والے پر، اس پر جس کو بیچی جائے، پلانے والے پر اور اس پر جس کو پلائی جائے ، یہاں تک کہ دسوں کو آپ نے گن کر اس طرح بتایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3381]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شراب نوشی اللہ کی نافرمانی اور کبیرہ گناہ ہے۔
نیز شراب بہت سی خرابیوں کاباعث ہے۔

(2)
شراب سے کسی بھی انداز سے تعلق قائم ہونا اللہ کی رحمت سے دوری اور اللہ کی لعنت کا باعث ہے۔

(3)
نچڑوانے والے سے مراد وہ شخص ہے جو کسی ملازم کو حکم دیتا ہے۔
کہ شراب بنانے کےلئے انگوروں کو نچوڑکررس نکالو۔
اور نچوڑنے والا وہ ملازم ہے۔
جو اس حکم کی تعمیل کرتا ہے۔
اور جس کے لئے نچوڑی گئی سے مراد وہ گاہک ہے۔
جس نے شراب بنانے والے سے معاہدہ کیا ہے۔
کہ وہ تیار شدہ شراب خرید لے گا۔
یا اس سے مراد وہ شخص ہے جسے پیش کرنے کےلئے شراب تیار کی گئی۔
مثلاً کوئی خاص مہمان دوست یا عزیز وغیرہ
(4)
جس کے لئے اٹھائی گئی ہے۔
سے مراد
(الف)
و ہ شخص بھی ہوسکتا ہے۔
جسے شراب پیش کی جانی مقصود ہے۔
خواہ وہ اسے پینا چاہتا ہویا خریدنا چاہتا ہو۔
اسے تحفہ کے طور پر دی جا رہی ہو۔
پہلی حدیث میں جس کے پاس اٹھا کر لے جائی گئی۔
کے بھی یہ سب مفہوم ہوسکتے ہیں۔
جودوسری شق (ب)
میں شامل ہیں۔

(5)
قیمت کھانے والے سے مراد وہ شخص ہے جس کو اس کی تجارت سے مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

(6)
گناہ کے کام میں کسی کا تعاون بھی گناہ میں شریک ہونے کے برابر ہے۔
خواہ وہ تعاون بظا ہر معمولی ہو۔

(7)
جب یہ بات معلوم ہو یہ خیال ہو کہ فلاں کام سے فلاں گناہ تکمیل کو پہنچے گا تو اس کام کو بلا معاوضہ یا معاوضہ لے کر انجام دینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3381 سے ماخوذ ہے۔