حدیث نمبر: 1294
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُتَّخَذُ الْخَمْرُ خَلًّا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کیا شراب کا سرکہ بنایا جا سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1294
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة أيضا
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الأشربة 2 (1983) ، سنن ابی داود/ الأشربة 3 (3675) ، ( تحفة الأشراف : 1668) ، وسنن الدارمی/الأشربة 17 (2161) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1983 | بلوغ المرام: 22

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1983 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا، کیا خمر کو سرکہ بنا لیا جائے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5140]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث کی رو سے جمہور فقہاء، امام شافعی، احمد، مالک وغیرہم کے نزدیک شراب سے سرکہ بنانا جائز نہیں ہے، ہاں اگر خود بخود بن جائے تو بالاتفاق جائز ہے، لیکن امام ابو حنیفہ اور اوزاعی کے نزدیک شراب سے سرکہ بنانا جائز ہے اور اس کے لیے اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں، جس کا معنی دو احتمال رکھتا ہے، مثلا ’’خير خلكم خل خمركم‘‘ تمہارا بہترین سرکہ، تمہارے شراب کا سرکہ ہے، اس کا صحیح معنی تو یہ ہے، جب وہ خود بخود سرکہ بن جائے، تاکہ دونوں حدیثوں میں تضاد نہ ہو۔
(حالانکہ اس حدیث کو ابن جوزی اور صنعانی نے موضوع قرار دیا ہے)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1983 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 22 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´شراب کا سرکہ بنانا حرام ہے`
«. . . سئل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الخمر: تتخذ خلا؟ فقال: لا . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب سے سرکہ بنانے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 22]
لغوی تشریح:
«عَنِ الْخَمْرِ» یعنی حرمت شراب کے بعد شراب سے سرکہ بنانے کے بارے میں دریافت کیا گیا۔
«خَلّ» خا کے فتحہ اور لام کی تشدید کے ساتھ ہے اور اس کے معنی شراب یا انگور وغیرہ کے شیرے سے تیار کردہ سرکے کے ہیں، یعنی کیا شراب کی صورت تبدیل کر کے سرکہ بنا لینا جائز ہے یا نہیں؟ «قَالَ: لَا» اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ایسا کرنا جائز نہیں۔ اس میں نہی تحریم کے لیے ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ اس میں یہ دلیل پائی جاتی ہے کہ شراب کا سرکہ بنانا حرام ہے، البتہ جب شراب خود بخود سرکہ بن جائے تو اس کے جواز اور حرمت کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ایسی صورت میں اس کی حرمت پر کوئی واضح دلیل نہیں۔ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ ایک چیز کی حالت کے بدلنے سے اس کا حکم بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ اور اشیاء میں اصل جواز ہے۔ اور یہی بات راجح ہے۔
➋ اس حدیث کا پس منظر کچھ اس طرح ہے کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس یتیموں کی شراب تھی۔ حرمت شراب کا حکم آنے کے بعد انھیں اندیشہ لاحق ہوا کہ یتیموں کا بڑا نقصان ہو گا۔ اس نقصان سے بچنے کے لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے شراب کو سرکے میں تبدیل کرنے کی اجازت طلب کی جس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے صاف طور پر منع فرما دیا۔ [سنن أبى داود، الأشربة، باب ما جاء فى الخمر تخلل، حديث: 3675] اس کھلی اور واضح ممانعت کے باوجود جس کسی نے شراب سے سرکہ بنانے کے جواز کا فتویٰ دیا اس نے نص صریح کی خلاف ورزی کی۔
➌ اس حدیث (اور دیگر ادلۂ شرعیہ) سے معلوم ہوا کہ شراب کا ہر قسم کا استعمال ناجائز ہے اور اس سے سرکہ بنانا بھی ممنوع ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 22 سے ماخوذ ہے۔