سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ باب: قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا ناجائز ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ جَابِرٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، كَرِهُوا بَيْعَ الطَّعَامِ ، حَتَّى يَقْبِضَهُ الْمُشْتَرِي ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِيمَنِ ابْتَاعَ شَيْئًا مِمَّا لَا يُكَالُ وَلَا يُوزَنُ مِمَّا لَا يُؤْكَلُ ، وَلَا يُشْرَبُ ، أَنْ يَبِيعَهُ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ ، وَإِنَّمَا التَّشْدِيدُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الطَّعَامِ ، وَهُوَ قَوْلُ : أَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق .´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص غلہ خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اس پر قبضہ نہ کر لے “ ۱؎ ، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : میں ہر چیز کو غلے ہی کے مثل سمجھتا ہوں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں جابر ، ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ان لوگوں نے غلہ کی بیع کو ناجائز کہا ہے ۔ جب تک مشتری اس پر قبضہ نہ کر لے ، ۴- اور بعض اہل علم نے قبضہ سے پہلے اس شخص کو بیچنے کی رخصت دی ہے جو کوئی ایسی چیز خریدے جو ناپی اور تولی نہ جاتی ہو اور نہ کھائی اور پی جاتی ہو ، ۵- اہل علم کے نزدیک سختی غلے کے سلسلے میں ہے ۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص غلہ خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اس پر قبضہ نہ کر لے " ۱؎، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں ہر چیز کو غلے ہی کے مثل سمجھتا ہوں۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1291]
وضاحت:
1؎:
خریدوفروخت میں شریعت اسلامیہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز پر خریدارجب تک مکمل قبضہ نہ کر لے اسے دوسرے کے ہاتھ نہ بیچے، اوریہ قبضہ ہر چیز پر اسی چیز کے حساب سے ہوگا، نیز اس سلسلہ میں علاقے کے عرف (رسم ورواج) کا اعتباربھی ہوگا کہ وہاں کسی چیز پر کیسے قبضہ ماناجاتا ہے مثلاً منقولہ چیزوں میں شریعت نے ایک عام اصول برائے مکمل قبضہ یہ بتایا ہے کہ اس چیز کو مشتری بائع کی جگہ سے اپنی جگہ میں منتقل کرلے یا ناپنے والی چیز کو ناپ لے اور تولنے والی چیز کو تول لے اور اندازہ کی جانے والی چیز کی جگہ بدل لے۔
اب زید نے ہی گیہوں بکر کے ہاتھ سے چار روپیہ کو بیچ ڈالا تو درحقیقت زید نے گویا دو روپے کو چار روپیہ کے بدل میں بیچا جو صریحاً سود ہے کیوں کہ گیہوں کا ابھی تک وجود ہی نہیں وہ تو دو ماہ بعد ملیں گے اور روپیہ کے بدل روپیہ بک رہا ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ کا مقصد اور استدلال پہلی حدیث کے فوائدمیں بیان ہوچکا ہے۔
ہم حضرت ابن عباس ؓ کے موقف کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ زید نے عمر سے دو من غلہ دوسوروپے میں خریدا اور یہ طے پایا کہ غلہ دوماہ بعد دیا جائے گا۔
اب زید نے خرید کردہ دو من غلہ بکر کو چار سوروپے میں فروخت کردیا۔
یہ صریح سود ہے کیونکہ غلے کا ابھی تک وجود نہیں وہ تو دوماہ بعد ملے گا اب تو روپوں کے عوض روپے فروخت کیے گئے ہیں۔
(2)
چونکہ روایت میں (والطعام مُرْجُاً)
کے الفاظ آئے تھے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسی مناسبت سے قرآنی آیت ﴿وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّـهِ﴾ کی لغوی تشریح فرمائی کہ اس کے معنی مؤخر کرنے کے ہیں۔
حتي يستوفيه: حتیٰ کہ اس کو ماپ یا تول یا گن لے، لیکن اس کا قبضہ میں لینا، اس معنی کی رو سے شرط نہیں ہے، لیکن یہاں یہ لفظ قبضہ کے معنی میں ہی ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی جگہ حتي يقبضه، حتیٰ کہ قبضہ میں لے لے کا لفظ موجود ہے۔
فوائد ومسائل: (1)
قبضہ کا مفہوم: قبضہ یہ ہے کہ شئی مشتری کی حرز تحفظ وپناہ اور ضمانت (ذمہ داری)
میں آ جائے، اس لیے امام مالک اور احناف کے ہاں قبضہ، تخلیہ یعنی بائع کا شئی سے دستبردار ہو جانا اور مشتری کو اپنے تحفظ میں لینے کا موقع دینے کا نام ہے اور شوافع و حنابلہ کے ہاں غیر منقولہ اشیاء میں قبضہ، تخلیہ کا نام ہے اور منقولہ اشیاء میں نقل و تحویل (خریدی ہوئی جگہ سے نقل کرتا ہے)
اور امام بخاری کے نزدیک حق تصرف تسلیم کر لینا ہے، لیکن صحیح بات یہی ہے کہ منقول اشیاء میں قبضہ نقل و تحویل کا نام ہے، جیسا کے حضرت زید بن ثابت کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں سامان خریدا ہے وہاں بیچنے سے منع کیا، جب تک کہ تاجرا سے اپنی جگہ میں محفوظ نہیں کر لیتا۔
(2)
امام شافعی اور امام محمد بن الحسن کے نزدیک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرح قبضہ سے پہلے کسی چیز کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے، کیونکہ خریدار جب تک سامان پر قبضہ نہیں کر لیتا، بائع کا حق تصرف پوری طرح ختم نہیں ہوتا اور وہ اگر اسے زیادہ منافع ملے تو سودا فسخ کر سکتا ہے یا قبضہ دینے سے ٹال مٹول کر سکتا ہے، اور آج کل بقول علامہ تقی یہ حکمت بھی ظاہر ہوئی ہے کہ اس سے سٹہ کو فروغ مل رہا ہے جس سے اشیاء بہت مہنگی ہو جاتی ہیں، مثلا ایک بحری جہاز جاپان سے کسی تاجر کا سامان لارہا ہوتا ہے اور سامان ابھی راستہ میں ہی ہوتا ہے کہ وہ منگوانے والا تاجر وہ سامان دوسرے تاجر کو بیچ دیتا ہے اور دوسرا تاجر تیسرے تاجر کو بیچ دیتا ہے اس طرح جہاز کے لنگر انداز ہونے سے پہلے پہلے سامان کئی دفعہ بک جاتا ہے، اس طرح وہ چیز جو جاپان سے دس روپے میں چلی تھی، راستہ میں ہی بار بار بکنے سے وہ چیز سو دو سو تک پہنچ جاتی ہے اور ابھی کسی کے قبضے میں نہیں آئی اور نہ وہ سامان کسی نے دیکھا ہے، حالانکہ یہ سامان راستہ میں تباہ بھی ہو سکتا ہے (تکلمۃ فتح الملھم: ج1، ص: 354)
لیکن اس پر سوال یہ ہے کہ قبضہ کا مطلب، احناف کے نزدیک بائع کا سامان سے دستبردار ہو جانا ہی مشتری کو تصرف کاحق دے دینا ہے، اور یہاں ہر تاجر دوسرے کے حق میں دستبردار ہو گیا ہے اور اس کے حق ملکیت کو تسلیم کر لیا ہے، اس لیے اس نے آگے بیچا ہے، اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ یہ طریقہ اس حدیث کے خلاف ہے جسے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے، آپﷺ نے فرمایا: لا تبع ما ليس عندك جو چیز تیرے پاس نہیں ہے اس کو فروخت نہ کرے، یا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صادق آتا ہے کہ جب ایک چیز خریدی ہے، لیکن وہ اپنے قبضہ میں نہیں لی، اور وہ آگے بیچ دی، تو یہ تو رقم کا رقم سے سودا ہوا ہے، کیونکہ سامان آیا نہیں ہے، نہ دیکھا ہے تو ایک تاجر نےاس کو مثلا بیس روپیہ میں خرید لیا، دوسرے کو پچیس میں بیچ دیا ہے، اس نے تیسرے کو تیس میں بیچ دیا ہے، اس طرح ہر تاجر، رقم کا رقم سے سودا کر رہاہے، سامان تو ابھی غائب ہے اور غرر کا بھی احتمال ہے کہ مال راستہ میں ضائع ہو جائے۔
امام احمد کا بھی ایک قول امام شافعی والا ہے، اور علامہ غلام رسول سعیدی نے اس موقف کو صحیح تسلیم کیا ہے۔
(شرح صحیح مسلم: ج 4/ص162) (3)
امام احمد اور اسحاق کے نزدیک ماپ و تول سے تعلق رکھنے والی اشیاء کا قبضے سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے، باقی اشیاء بیچنا جائز ہے، اور بقول علامہ ابن قدامہ نہی کا تعلق امام احمد کے نزدیک صرف اناج اور غلہ سے ہے۔
(4)
امام مالک کے نزدیک غلہ کیلی ہو یا وزنی۔
اس کا قبضہ سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے اور قاضی عیاض مالکی نے ہر اس چیز کی قبضہ سے پہلے بیع ناجائز قرار دی ہے جس کا تعلق ناپ تول یا عدد سے ہو، اور سحنون اور ابن حبیب نے اس کے ساتھ غلہ ہونے کی شرط لگائی ہے اور ابن وہب نے کہا اس کا تعلق ربوی (سودی)
اشیاء سے ہے۔
(5)
امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک منع کا تعلق منقول اشیاء سے ہے، غیر منقول اشیاء سے نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: " جو شخص گیہوں خریدے تو وہ اسے تولے بغیر فروخت نہ کرے۔" ابوبکر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیوں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ لوگ اشرفیوں سے گیہوں خریدتے بیچتے ہیں حالانکہ گیہوں بعد میں تاخیر سے ملنے والا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3496]
ان تعلیمات کی حکمتیں واضح ہیں۔
مقصد یہ ہے کہ منڈی میں جمود نہ رہے۔
مال اور سرمایا حرکت میں آئے۔
مزدوروں کو مزدوری اور لوگوں کو رزق آسانی اور ارزانی سے ملے۔
آج کل اشیاء کے مہنگے ہونے کا بڑا سبب ہی یہی ہے۔
کہ مال ایک جگہ سٹور میں پڑا ہوتا ہے۔
اورسرمایا دار اسے وہیں ا یک دوسرے کو فروخت کرتے چلے جاتے ہیں۔
یا مال ابھی ایک خریدار کے قبضے میں آیا نہیں ہوتا کہ وہ اسے آگے فروخت کردیتا ہے۔
اور وہ پھر اسے آگے فروخت کردیتا ہے۔
یہ سب صورتیں شرعی اصولوں سے متصادم ہیں۔
اوران کا حاصل کمرتوڑ مہنگائی ہے۔
ولاحول ولا قوة إلا باللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو اناج خریدے تو اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے ناپ نہ لے۔" [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4601]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو کوئی گیہوں خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک اس کو اپنی تحویل میں نہ لے لے۔" ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ہر چیز گیہوں ہی کی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4604]
اس حدیث میں خرید و فروخت کا ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے کہ ایک جگہ مال پڑا ہوا ہے، وہاں سے خرید کر اس کو اپنے قبضے میں لے لے، پھر اس کو آگے کسی کو فروخت کر سکتا ہے، اس میں بے شمار حکمتیں ہیں، جن کا ہر کسی کو ادراک نہیں ہے۔ موجودہ دور میں اس مقبول حدیث کی بہت زیادہ مخالفت کی جا رہی ہے، الا مـن رحم ربی۔