سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ باب: ضرورت سے زائد پانی کے بیچنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ جَابِرٍ ، وَبُهَيْسَةَ ، عَنْ أَبِيهَا ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَائِشَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ إِيَاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، أَنَّهُمْ كَرِهُوا بَيْعَ الْمَاءِ ، وَهُوَ قَوْلُ : ابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي بَيْعِ الْمَاءِ مِنْهُمْ : الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ .´ایاس بن عبد مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ایاس کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں جابر ، بہیسہ ، بہیسہ کے باپ ، ابوہریرہ ، عائشہ ، انس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ان لوگوں نے پانی بیچنے کو ناجائز کہا ہے ، یہی ابن مبارک شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ، ۴- اور بعض اہل علم نے پانی بیچنے کی اجازت دی ہے ، جن میں حسن بصری بھی شامل ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ایاس بن عبد مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1271]
وضاخت: 1؎:
اس سے مراد نہروچشمے وغیرہ کا پانی ہے جوکسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو اوراگرپانی پر کسی طرح کا خرچ آیا ہوتو ایسے پانی کا بیچنا منع نہیں ہے مثلاً راستوں میں ٹھنڈا پانی یا مینرل واٹروغیرہ بیچناجائزہے۔
ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل (پینے کے) پانی کے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3478]
فائدہ۔
اس سے مراد صحرا اور عام چراگاہوں میں پائے جانے والے تالابوں کنووں یا چشموں کا پانی ہے، نہ کہ کسی کی ذاتی ملکیت والی زمین میں محنت و مشقت سے نکالا جانے والا پانی۔
ایاس بن عمر (یا ابن عبد) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی بیچنے سے منع فرماتے ہوئے سنا۔ قتیبہ کہتے ہیں: مجھے ان (سفیان) سے ایک مرتبہ ابومنہال کے بعض کلمات سمجھ میں نہیں آئے جیسا میں نے چاہا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4665]
ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل پانی کے بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہط کے نگراں نے وہط کا فاضل پانی بیچا تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اسے ناپسند کیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4666]
ابومنہال نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ نے کہا: فاضل پانی مت بیچو، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4667]
اس حدیث میں بیان ہے کہ اضافی پانی کو فروخت کرنا منع ہے، مثلاً بارش کا پانی، جو کسی کے حوض میں کھڑا ہے اور وہ لوگوں کو استعمال نہیں کرنے دیتا، ان سے پیسے مانگتا ہے، یہ غلط ہے، اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ٹیوب ویل یا پمپ کا پانی بھی فروخت نہیں کر سکتا، ایسی بات نہیں ہے، جو پانی مشقت سے حاصل ہوتا ہے، جس کا بل آ تا ہے، ڈیزل خرچ ہوتا ہے، وہ فروخت کرنا درست ہے، نیز نہری پانی بھی فروخت کرنا درست ہے، کیونکہ وہ فری حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا بھی بل ادا کرنا پڑتا ہے، اور بہت زیادہ مشکل کے بعد حاصل ہوتا ہے۔