سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ لِلْمُسْلِمِ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى الذِّمِّيِّ الْخَمْرَ يَبِيعُهَا لَهُ باب: مسلمان ذمی کو شراب بیچنے کے لیے دے یہ منع ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ : كَانَ عِنْدَنَا خَمْرٌ لِيَتِيمٍ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ الْمَائِدَةُ ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ ، وَقُلْتُ : إِنَّهُ لِيَتِيمٍ . فَقَالَ : " أَهْرِيقُوهُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا ، وقَالَ بِهَذَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : وَكَرِهُوا أَنْ تُتَّخَذَ الْخَمْرُ خَلَّا ، وَإِنَّمَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، أَنْ يَكُونَ الْمُسْلِمُ فِي بَيْتِهِ خَمْرٌ ، حَتَّى يَصِيرَ خَلَّا ، وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي خَلِّ الْخَمْرِ ، إِذَا وُجِدَ قَدْ صَارَ خَلًّا أَبُو الْوَدَّاكِ اسْمُهُ : جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ .´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہمارے پاس ایک یتیم کی شراب تھی ، جب سورۃ المائدہ نازل ہوئی ( جس میں شراب کی حرمت مذکور ہے ) تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا اور عرض کیا کہ وہ ایک یتیم کی ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” اسے بہا دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اور بھی سندوں سے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے ، ۳- اس باب میں انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے ، ۴- بعض اہل علم اسی کے قائل ہیں ، یہ لوگ شراب کا سرکہ بنانے کو مکروہ سمجھتے ہیں ، اس وجہ سے اسے مکروہ قرار دیا گیا ہے کہ مسلمان کے گھر میں شراب رہے یہاں تک کہ وہ سرکہ بن جائے ۔ «واللہ اعلم» ، ۵- بعض لوگوں نے شراب کے سرکہ کی اجازت دی ہے جب وہ خود سرکہ بن جائے ۔