سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْبَيِّعَيْنِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا باب: بیچنے والا اور خریدار دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے۔
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَمَعْنَى هَذَا أَنْ يُفَارِقَهُ بَعْدَ الْبَيْعِ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ ، وَلَوْ كَانَتِ الْفُرْقَةُ بِالْكَلَامِ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ خِيَارٌ بَعْدَ الْبَيْعِ لَمْ يَكُنْ لِهَذَا الْحَدِيثِ مَعْنًى حَيْثُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ " .´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں ان کو اختیار ہے الا یہ کہ بیع خیار ہو ( تب جدا ہونے کے بعد بھی واپسی کا اختیار باقی رہتا ہے ) ، اور بائع کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنے ساتھی ( مشتری ) سے اس ڈر سے جدا ہو جائے کہ وہ بیع کو فسخ کر دے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- اور اس کا معنی یہی ہے کہ بیع کے بعد وہ مشتری سے جدا ہو جائے اس ڈر سے کہ وہ اسے فسخ کر دے گا اور اگر جدائی صرف کلام سے ہو جاتی ، اور بیع کے بعد مشتری کو اختیار نہ ہوتا تو اس حدیث کا کوئی معنی نہ ہو گا جو کہ آپ نے فرمایا ہے : ” بائع کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ مشتری سے اس ڈر سے جدا ہو جائے کہ وہ اس کی بیع کو فسخ کر دے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار ہو، اور (کسی فریق کے لیے) یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے صاحب معاملہ سے اس اندیشے سے جدا ہو کہ کہیں وہ بیع فسخ کر دے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4488]
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر اسی مجلس میں ایک فریق نے دوسرے کو یہ اختیار دیا ہے کہ جو فیصلہ کرنا ہے ابھی اور اسی وقت کر لو، پھر سودا ہو جاتا ہے تو اب ان کا اختیار ختم ہو جائے گا، خواہ وہ مجلس کتنی دیر ہی برقرار رہے۔
(3) یہ حدیث مبارکہ اس اہم مسئلے پر بھی دلالت کرتی ہے کہ بائع اور مشتری دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں، لہٰذا دونوں میں سے کسی کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ سودا پکا کرنے کے لیے جلدی کرے اور طے ہوتے ہی دونوں میں سے کوئی ایک اس مجلس سے فوراً چلا جائے اور دوسرے فریق کو سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہ دے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ شخص اپنے فیصلے پر نادم ہو گا اور پچھتائے گا، اس لیے یہ ضروری ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے دوسرے ساتھی کو غور و فکر کی مہلت دے۔
(4) ”واپسی کے ڈر سے“ کسی کو دھوکے میں رکھنا جائز نہیں چونکہ مجلس برقرار رکھنے تک واپسی کا حق ہے۔ اس حق کو زائل کرنے کی کوشش بھی حق تلفی میں آتی ہے۔ فریق ثانی سے خیر خواہی اور خلوص کا تقاضا یہ ہے کہ اسے اس کا حق استعمال کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ حدیث کے آخری الفاظ اس بات کی صریح دلیل ہیں کہ یہاں خیار مجلس ثابت کیا جا رہا ہے اور جب تک وہ جسمانی طور پر اکٹھے ہیں، یہ حق باقی رہتا ہے ورنہ جدا ہونے سے روکنے کے کیا معنیٰ؟
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” خریدار اور فروخت کرنے والے کو اختیار حاصل ہے، تاوقتیکہ ایک دوسرے سے جدا ہوں، بشرطیکہ سودا اختیار والا ہو اور سودا واپس کرنے کے اندیشے کے پیش نظر جلدی سے الگ ہو جانا حلال نہیں ہے۔ “ اسے ابن ماجہ کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے۔ نیز دارقطنی، ابن خزیمہ اور ابن جارود نے بھی روایت کیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ ” جب تک وہ اپنی جگہ سے جدا (نہ) ہو جائیں۔ “ «بلوغ المرام/حدیث: 693»
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في خيار المتبايعين، حديث:3456، والترمذي، البيوع، حديث:1247، والنسائي، البيوع، حديث:4488، وأحمد:2 /183.»
تشریح: اس حدیث میں بھی خیار مجلس کا ذکر ہے۔
خیار مجلس اکثر صحابہ و تابعین‘ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کے نزدیک ثابت ہے‘ البتہ امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ اس کے قائل نہیں‘ حالانکہ پہلی حدیث اس مسئلے میں واضح نص کی حیثیت رکھتی ہے۔
شیخ الہند مولانا محمود الحسن (دیوبندی) نے کہا ہے کہ حق اور انصاف کی بات یہی ہے کہ اس مسئلے میں امام شافعی رحمہ اللہ کی بات دلائل کے اعتبار سے راجح ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے بھی اسی کو راجح قرار دیا ہے‘ مگر ہم مقلدین کو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔
دیکھیے: (تقریر ترمذی)