سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الصَّرْفِ باب: صرف کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا شَيبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَر، إلى أبي سعيد فحدثنا ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ هَاتَانِ ، يَقُولُ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، لَا يُشَفُّ بَعْضُهُ عَلَى بَعْضٍ ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهُ غَائِبًا بِنَاجِزٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، وَالْبَرَاءِ ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَأَبِي بَكْرَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَبِلَالٍ ، قَالَ : وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّبَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُبَاعَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مُتَفَاضِلًا ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مُتَفَاضِلًا ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ، وقَالَ : إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ شَيْءٌ مِنْ هَذَا ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ ، حِينَ حَدَّثَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، أَنَّهُ قَالَ : لَيْسَ فِي الصَّرْفِ اخْتِلَافٌ .´نافع کہتے ہیں کہ` میں اور ابن عمر دونوں ابو سعید خدری رضی الله عنہم کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اسے میرے دونوں کانوں نے آپ سے سنا ) : ” سونے کو سونے سے برابر برابر ہی بیچو اور چاندی کو چاندی سے برابر برابر ہی بیچو ۔ ایک کو دوسرے سے کم و بیش نہ کیا جائے اور غیر موجود کو موجود سے نہ بیچو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- رباء کے سلسلہ میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابوبکر ، عمر ، عثمان ، ابوہریرہ ، ہشام بن عامر ، براء ، زید بن ارقم ، فضالہ بن عبید ، ابوبکرہ ، ابن عمر ، ابودرداء اور بلال رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ۴- مگر وہ جو ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ وہ سونے کو سونے سے اور چاندی کو چاندی سے کمی بیشی کے ساتھ بیچنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے ، جب کہ بیع نقدا نقد ہو ، اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ سود تو ادھار بیچنے میں ہے اور ایسا ہی کچھ ان کے بعض اصحاب سے بھی مروی ہے ، ۵- اور ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ ابو سعید خدری نے جب ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا ، پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ اور یہی سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ، اور ابن مبارک کہتے ہیں : صرف ۱؎ میں اختلاف نہیں ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
نافع کہتے ہیں کہ میں اور ابن عمر دونوں ابو سعید خدری رضی الله عنہم کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اسے میرے دونوں کانوں نے آپ سے سنا): ” سونے کو سونے سے برابر برابر ہی بیچو اور چاندی کو چاندی سے برابر برابر ہی بیچو۔ ایک کو دوسرے سے کم و بیش نہ کیا جائے اور غیر موجود کو موجود سے نہ بیچو۔“ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1241]
وضاحت: 1؎: سونے چاندی کوبعوض سونے چاندی نقداً بیچنا بیع صرف ہے۔
یعنی ادھار کو ادھار کے بدل بیچنا۔
اور ایک حدیث میں صراحتاً اس کی ممانعت وارد ہے اور اصحاب سننن نے ابن عمر ؓ سے نکالا کہ میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا تو دیناروں کے بدل بیچتا اور درہم لیتا، اور درہم کے بدل بیچتا تو دینار لے لیتا۔
میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلہ کو پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
بشرطیکہ اسی دن کے نرخ سے لے۔
اور ایک دوسرے سے بغیر لیے جدا نہ ہو۔
(1)
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں: مثل ذلك سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے حضرت عمر ؓ سے مروی حدیث کی طرح حدیث بیان کی جیسا کہ اسماعیلی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
اس میں صراحت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث میں وہی مضمون تھا جو حضرت عمر ؓ سے مروی حدیث میں ہے، نیز یہ واقعہ حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ پیش آیا۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ کا ایک واقعہ حضرت ابن عباس ؓ کے ساتھ بھی ہے جو آئندہ (حدیث: 2178، 2179)
میں بیان ہوگا۔
(2)
واضح رہے کہ ایک شخص نے کسی سے درہم لینے ہیں اور کسی اور نے اس سے دینار لینے ہیں تو یہ دونوں آپس میں درہم ودینار کی خریدوفروخت نہیں کرسکتے کیونکہ جب ایک طرف سے ادھار اور دوسری طرف سے نقد کی خریدوفروخت جائز نہیں تو دونوں طرف سے ادھار کی بیع کیسے درست ہوسکتی ہے۔
(فتح الباري: 481/4)
ربا: کا معنی اضافہ و زیادتی یا بڑھوتری ہے، اور علامہ ابوبکر جصاص نے اس کی تعریف یوں کی ہے، (القرض المشروط فيه الاجل و زيادة مال علي المستقرض)
یعنی ادھار کی میعاد پر مقروض سے اضافہ وصول کرنا، اور ایک مرفوع اور موقوف حدیث ہے، (كل قرض جر منفعة فهو ربا)
قرض پر نفع وصول کرنا سود ہے۔
لا تشفوا: یہ شف سے ماخوذ ہے، جس کا معنی، زیادتی اور کمی دونوں آتے ہیں، تو معنی ہوا، ایک دوسرے سے کم یا زیادہ نہ کرو برابر، برابر ہوں۔
فوائد ومسائل: ربا کی دو قسمیں ہیں (1)
ربا النسيئة: جس کی حرمت قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے، اس لیے اس کو ربا القرآن بھی کہتے ہیں، جس میں ادھار، رقم دے کر، اس پر نفع یا اضافہ وصول کیا جاتا ہے۔
(2)
ربا الفضل: جس کی حرمت احادیث میں بیان کی گئی ہے، اس لیے اسے ربا الحديث بھی کہتے ہیں، جس میں ایک جنس کا باہمی تبادلہ کمی و بیشی کے ساتھ کیا جاتا ہے، مثلا ایک طرف چار کلو گندم ہے اور دوسری طرف 6 کلو گندم ہے، یا ایک طرف دو تولہ سونا ہے اور دوسری طرف تین تولہ یا ڈھائی تولہ سونا ہے تو یہ جائز نہیں ہے اور ایک ملک کی کرنسی کا حکم بھی سونے، چاندی والا ہے، تبادلہ میں کمی و بیشی جائز نہیں ہے، اس طرح تبادلہ کا دست بدست نقد بنقد ہونا ضروری ہے، موجود (ناجز)
کا غائب (غیر موجود)
سے تبادلہ جائز نہیں ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، اور ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ نہ کرو، اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر اور ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4574]
«. . . 259- مالك عن نافع عن أبى سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل، ولا تشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا منها شيئا غائبا بناجز.“ . . .»
”. . . سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے بدلے میں نہ بیچو مگر برابر برابر، اس میں بعض کو بعض پر زیادتی و اضافہ نہ دو اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں نہ بیچو مگر برابر برابر، اس میں بعض پر زیادتی و اضافہ نہ دو اور ان میں سے کوئی چیز بھی ادھار کے بدلے نقد نہ بیچو . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 510]
تفقه:
➊ سونے چاندی کے لین دین میں اضافہ حرام ہے، چاہے نقد ہو یا ادھار۔
➋ اگر جنس علیحدہ ہو تو کرنسی کا تبادلہ جائز ہے مثلاً ریال دے کر روپے لینا یا روپے دے کر ریال وغیرہ لینا۔
➌ محمد طاہر القادری (بریلوی) نے أحمد رضا خان بریلوی سے نقل کیا ہے کہ ”اگر کوئی شخص دس روپے کا نوٹ دوسرے شخص کو سال بھر کے وعدے پر بارہ (12) روپے میں بیچ دے تو یہ جائز ہے۔“ [بلا سُود بنکاری/عبوری خاکہ طبع سوم جولائی 1987ء ص100]
بریلوی صاحب کا اس عمل کو جائز قرار دینا سراسر غلط ہے بلکہ حق یہ ہے کہ صریح سود ہے۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «كل قرض جر منفعته فهو وجه من وجوه الربا» ہر وہ قرض جو نفع کھینچے، سود کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي 5/350 وسنده صحيح وأخطأ من ضعفه]