سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الْغَرَرِ باب: بیع غرر (دھوکہ) کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ، وَبَيْعِ الْحَصَاةِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا بَيْعَ الْغَرَرِ ، قَالَ الشَّافِعِيُّ : وَمِنْ بُيُوعِ الْغَرَرِ بَيْعُ السَّمَكِ فِي الْمَاءِ ، وَبَيْعُ الْعَبْدِ الْآبِقِ ، وَبَيْعُ الطَّيْرِ فِي السَّمَاءِ وَنَحْوُ ذَلِكَ مِنَ الْبُيُوعِ ، وَمَعْنَى بَيْعِ الْحَصَاةِ : أَنْ يَقُولَ الْبَائِعُ لِلْمُشْتَرِي : إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ بِالْحَصَاةِ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ وَهَذَا شَبِيهٌ بِبَيْعِ الْمُنَابَذَةِ ، وَكَانَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر ۱؎ اور بیع حصاۃ سے منع فرمایا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن عمر ، ابن عباس ، ابوسعید اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ، وہ بیع غرر کو مکروہ سمجھتے ہیں ، ۴- شافعی کہتے ہیں : مچھلی کی بیع جو پانی میں ہو ، بھاگے ہوئے غلام کی بیع ، آسمان میں اڑتے پرندوں کی بیع اور اسی طرح کی دوسری بیع ، بیع غرر کی قبیل سے ہیں ، ۵- اور بیع حصاۃ سے مراد یہ ہے کہ بیچنے والا خریدنے والے سے یہ کہے کہ جب میں تیری طرف کنکری پھینک دوں تو میرے اور تیرے درمیان میں بیع واجب ہو گئی ۔ یہ بیع منابذہ کے مشابہ ہے ۔ اور یہ جاہلیت کی بیع کی قسموں میں سے ایک قسم تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر ۱؎ اور بیع حصاۃ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1230]
وضاحت:
1؎:
بیع غرر: معدوم ومجہول کی بیع ہے، یاایسی چیز کی بیع ہے جسے مشتری کے حوالہ کرنے پر بائع کو قدرت نہ ہو۔
کپڑوں کے ڈھیر یا تھانوں پر میں کنکر پھینکتا ہوں، جس پر وہ گرے وہ اتنی قیمت میں تیرا ہو گا یا میں یہاں سے کنکر پھینکتا ہوں جہاں گرے گا وہاں تک زمین، اس قیمت پر تیری ہو گی۔
(2)
یہ چیز میں تمہیں اتنے میں فروخت کرتا ہوں، جب میں یہ کنکر پھینک دوں گا۔
تو بیع پختہ ہو جائے گی اور تمہارا اختیار ختم ہو جائے گا۔
(3)
جب میں اس چیز پر کنکر مار دوں گا، تو یہ تیری ہو گی۔
بہرحال ان تینوں صورتوں میں غرر اور دھوکا اور جوا ہے، اس لیے منع ہے۔
امام شافعی نے بیع ملامسہ، بیع منابذہ اور بیع حصاۃ کو اس لیے منع قرار دیا ہے کہ ان میں ایجاب و قبول نہیں ہے، یعنی بائع کہے میں نے بیچ دی اور مشتری کہے میں نے خرید لی، اس پر قیاس کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں بیع تعاطی بھی جائز نہیں ہے جس کی صورت یہ ہے کہ بائع کہے میں یہ چیز اتنے میں دیتا ہوں، مشتری رقم ادا کر کے وہ چیز لے لے، یا خریدار بائع کو کہتا ہے، میں اس چیز کی اتنی رقم دیتا ہوں، تو وہ اٹھا کر چیز اس کو دے دے۔
تو یہاں زبان سے ایجاب و قبول نہیں ہوا، کہ میں دیتا ہوں، میں لیتا ہوں، حالانکہ فعلاً تو یہاں ایجاب و قبول ہو گیا ہے اور اس میں جہالت اور غرر کی کوئی صورت بھی نہیں ہے، اس لیے باقی ائمہ کے نزدیک یہ جائز ہے اور لوگوں کا یہی عرف اور رواج ہے جو ہر جگہ جاری ہے۔
بیع غرر: جس میں دھوکا اور فریب ہو، یہ ایک ایسا اصول اور ضابطہ ہے جس کے تحت بے شمار صورتیں آ جاتی ہیں مثلا بھگوڑے غلام کی بیع، بھگوڑے جانور کی بیع، حیوان کے پیٹ کے حمل کی بیع، ہوا میں اڑنے والے پرندوں کے شکار کی بیع، پانی میں مچھلیوں کے لیے جال لگانے کی بیع، ہاں معمولی غرر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
مثلا حمام میں نہانا اور ایک معین رقم ادا کرنا، ایک ماہ کے لیے کوئی چیز کرایہ پر دینا، حالانکہ ماہ میں ایک دن کی کمی و بیشی ہوتی ہے۔
اور ہوٹل میں فی آدمی کے کھانے پر یکساں رقم ادا کرنا وغیرہ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکہ کی بیع سے روکا ہے۔ عثمان راوی نے اس حدیث میں «والحصاة» کا لفظ بڑھایا ہے یعنی کنکری پھینک کر بھی بیع کرنے سے روکا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3376]
(بیع الحصاۃ) کنکری پھینک کر بیع کرنا یعنی خریدار یا فروخت کرنے والا کہے کہ جب میں کنکری پھینک دوں گا تو بیع پختہ ہوجائے گی۔
یا جس چیز پر کنکری پڑی وہ دے دوں گا یا لے لوںگا خریدوفروخت کا یہ انداز ممنوع ہے۔
آج کل بھی ایسا جوا رائج ہے۔
کہ آپ کا نشانہ جس چیز پر لگ جائے گا۔
اتنی قیمت میں وہ آپ کی ہوگی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری کی بیع اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4522]
(2) حدیث کے آخر میں ہر دھوکے والی بیع سے منع کر دیا گیا ہے، مثلاً: پانی کے اندر موجود مچھلی یا فضا کے اندر اڑتے پرندے کی بیع جسے ابھی تک شکار نہیں کیا گیا۔ اللہ جانے وہ شکار ہو سکے یا نہ، اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کی بیع۔ نہ معلوم وہ مل سکے یا نہ۔ جو چیز ابھی پیدا ہی نہیں ہوئی، اس کی بیع بھی اسی کے تحت آتی ہے وغیرہ وغیرہ، البتہ اگر تھوڑا بہت ابہام ہو جس سے بچنا ممکن نہیں تو اس کی گنجائش ہے، مثلاً: ماہانہ یا یومیہ کرائے پر کوئی چیز لینا، حالانکہ سب مہینے، اسی طرح سب دن برابر نہیں ہوتے۔ ان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے لیکن یہ مجبوری ہے، لہٰذا بلاتکلف جائز ہے، نیز ان میں دھوکا دہی کا تصور نہیں جو کہ منع کی اصل بنیاد ہے۔