سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ باب: محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، سَأَلَ سَعْدًا ، عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ ، فَقَالَ : أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ الْبَيْضَاءُ : فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ سَعْدٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ اشْتِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ ؟ ، فَقَالَ : " لِمَنْ حَوْلَهُ ، أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ : سَأَلْنَا سَعْدًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَهُوَ قَوْلُ : الشَّافِعِيِّ ، وَأَصْحَابِنَا .´عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ` ابوعیاش زید نے سعد رضی الله عنہ سے گیہوں کو چھلکا اتارے ہوئے جو سے بیچنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پوچھا : ان دونوں میں کون افضل ہے ؟ انہوں نے کہا : گیہوں ، تو انہوں نے اس سے منع فرمایا ۔ اور سعد رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ سے تر کھجور سے خشک کھجور خریدنے کا مسئلہ پوچھا جا رہا تھا ۔ تو آپ نے قریب بیٹھے لوگوں سے پوچھا : ” کیا تر کھجور خشک ہونے پر کم ہو جائے گا ؟ ۱؎ “ لوگوں نے کہا ہاں ( کم ہو جائے گا ) ، تو آپ نے اس سے منع فرمایا ۔ مؤلف نے بسند «وكيع عن مالك» اسی طرح کی حدیث بیان کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اور یہی شافعی اور ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ ابوعیاش زید نے سعد رضی الله عنہ سے گیہوں کو چھلکا اتارے ہوئے جو سے بیچنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پوچھا: ان دونوں میں کون افضل ہے؟ انہوں نے کہا: گیہوں، تو انہوں نے اس سے منع فرمایا۔ اور سعد رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ سے تر کھجور سے خشک کھجور خریدنے کا مسئلہ پوچھا جا رہا تھا۔ تو آپ نے قریب بیٹھے لوگوں سے پوچھا: " کیا تر کھجور خشک ہونے پر کم ہو جائے گا؟ ۱؎ " لوگوں نے کہا ہاں (کم ہو جائے گا)، تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ مؤلف نے بسند «وكيع عن مالك» اسی طرح کی حدی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1225]
وضاحت:
1؎:
اس سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہواکہ مفتی کے علم وتجربہ میں اگرکوئی بات پہلے سے نہ ہوتوفتوی دینے سے پہلے وہ مسئلہ کے بارے میں تحقیق کرلے۔
عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ زید ابوعیاش نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ گیہوں کو «سلت» (بغیر چھلکے کے جو) سے بیچنا کیسا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ان دونوں میں سے کون زیادہ اچھا ہوتا ہے؟ زید نے کہا: گیہوں، تو انہوں نے اس سے منع کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے (جب) سوکھی کھجور کچی کھجور کے بدلے خریدنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: " کیا تر کھجور جب سوکھ جائے تو کم ہو جاتی ہے؟ " لوگوں نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3359]
اس حدیث سے قبل باب کی بابت اختلاف ہے۔
بعض نسخوں میں باب في التمر بالتمر (کھجور کو کھجور کے بدلے بیچنا۔
) ہے۔
تاہم اس بات میں بھی التمر سے مراد کھجور ہی کا پھل ہے۔
اس لئے اختلاف نسخ کے باوجود بات ایک ہی رہتی ہے۔
بنی زہرۃ کے غلام زید ابوعیاش کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سالم جَو کو چھلکا اتارے ہوئے جَو کے بدلے خریدنا کیسا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: دونوں میں سے کون بہتر ہے؟ کہا: سالم جو، تو سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے اس سے روکا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب تر کھجور کو خشک کھجور سے بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " کیا تر کھجور سوکھ جانے کے بعد (وزن میں) کم ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2264]
فوائد و مسائل:
(1)
سُلت (بغیر چھلکے کے جو)
ایک خاص غلہ ہے جو چھلکا نہ ہونے کے لحاظ سے گندم سے مشابہ ہے۔
اور طبعی خواص کی بنا پر جو سے مشابہ ہے۔
بہر حال اسے جو ہی کی جنس سے شمار کیا جاتا ہے۔
(2)
خشک کھجور اور تازہ کھجور کا باہم تبادلہ ممنوع ہے اگرچہ دست بدست ہی ہو۔
(3)
خشک کھجور اور تازہ کھجور بظاہر ایک ہی جنس ہے‘ اس لیے اس کی اقسام کا تبادلہ جائز ہونا چاہیے لیکن منع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ بظاہر ہم وزن ہونے کے باوجود حقیقت میں ہم وزن نہیں۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تازہ کھجوروں کے بدلے خشک کھجور بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اپنے اردگرد موجود لوگوں سے سوال کیا: جب تازہ کھجور سوکھ جاتی ہے تو کیا کم ہو جاتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ نے اس سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4549]
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ اہم بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ شارع علیہ السلام محض اشیاء کی حرمت بیان نہیں فرماتے تھے بلکہ بسا اوقات حرمت کی وجہ بھی بیان فرما دیتے تھے تا کہ لوگ علی وجہ البصیرت ممنوعہ چیز سے رک جائیں، نیز انھیں ممنوعہ چیز کی بابت مکمل طور پر انشراح صدر ہو جیسا کہ مذکورہ مسئلے میں آپ نے حاضرین ہی سے پوچھا: "کیا خشک ہو کر تازہ کھجور کا وزن کم ہو جاتا ہے؟" انھوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ یقینا! اس حقیقت کا علم رسول اللہ ﷺ کو بھی تھا لیکن آپ نے ان سے پوچھا تا کہ ان کے سامنے حرمت کی وجہ بالکل واضح ہو جائے۔
(3) لوگوں کے مال کسی بھی باطل طریقے سے کھانا حرام ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ (النساء:29:4) "اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے مال آپس میں باطل اور ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔"
قیاس اور اجتہاد کرنا درست ہے، صاف جو اور غیر صاف جو کو ملا کر بیع کرنے کی ممانعت کا ذکر قرآن و حدیث میں نہیں ہے لیکن خشک کھجور اور تازہ کھجور کو ملا کر فروخت کرنے کی دلیل موجود ہے، اور اس میں علت ضرر اور غرر ہے، اور یہی علت صاف جو اور غیر صاف جو میں بھی موجود ہے، اس لیے اس پر قیاس کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرح سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بھی بھی فقیہ، مجتہد اور صاحب بصیرت صحابی تھے۔