حدیث نمبر: 1223
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ فِي هَذَا هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ أَيْضًا ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، كَرِهُوا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي أَنْ يَشْتَرِيَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ : يُكْرَهُ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَإِنْ بَاعَ فَالْبَيْعُ جَائِزٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شہری کسی گاؤں والے کا سامان نہ فروخت کرے ، تم لوگوں کو ( ان کا سامان خود بیچنے کے لیے ) چھوڑ دو ۔ اللہ تعالیٰ بعض کو بعض کے ذریعے رزق دیتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ۔
۲- اس باب میں جابر کی حدیث بھی حسن صحیح ہے ۔
۳- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ۔ ان لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا سامان بیچے ، ۴- اور بعض لوگوں نے رخصت دی ہے کہ شہری دیہاتی کے لیے سامان خرید سکتا ہے ۔
۵- شافعی کہتے ہیں کہ شہری کا دیہاتی کے سامان کو بیچنا مکروہ ہے اور اگر وہ بیچ دے تو بیع جائز ہو گی ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2176)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البیوع 6 (1522) ، سنن ابن ماجہ/التجارات 15 (2177) ، ( تحفة الأشراف : 2764) ، مسند احمد (3/307) (صحیح) و أخرجہ کل من: صحیح مسلم/البیوع (المصدر المذکور) ، سنن ابی داود/ البیوع 47 (2442) ، سنن النسائی/البیوع 17 (4500) ، مسند احمد 3/312، 386، 392) من غیر ہذا الوجہ۔»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1522 | سنن ابي داود: 3442 | سنن ابن ماجه: 2176 | سنن نسائي: 4500 | مسند الحميدي: 1307

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4500 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شہری دیہاتی کا مال بیچے یہ کیسا ہے؟`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ رزق (روزی) فراہم کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4500]
اردو حاشہ: مقصود یہ ہے کہ معاملات فطری طریقے سے جاری رہنے چاہییں۔ مصنوعی طریقے سے قلت پیدا کر کے یا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے سے مہنگائی پیدا نہیں کرنی چاہیے بلکہ جوں جوں پیداوار آتی جائے، بازار میں فروخت ہوتی جائے اور ضرورت مند لوگوں تک پہنچتی رہے۔ ظاہر ہے اگر شہری دیہاتی کا مال بیچے گا تو ذخیرہ اندوزی کرے گا اور مصنوعی قلت پیدا کرے گا تاکہ پیداوار مہنگی فروخت ہو اور اس کا اپنا فائدہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4500 سے ماخوذ ہے۔