حدیث نمبر: 1220
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ : " نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں علی ، ابن عباس ، ابوہریرہ ، ابو سعید خدری ، ابن عمر ، اور ایک اور صحابی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1220
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2180)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/البیوع 64 (2149) ، و71 (2164) ، صحیح مسلم/البیوع 5 (1518) ، سنن ابن ماجہ/التجارات 16 (2180) ، مسند احمد (1/430) ( تحفة الأشراف : 9377) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2164 | صحيح مسلم: 1518 | سنن ابن ماجه: 2180

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2164 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2164. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ جس کسی نے دودھ بستہ جانور خریدا (اگر اسے واپس کرنا چاہے تو) وہ اسکے ساتھ ایک صاع(کھجور)واپس کرے، نیز انھوں نے کہاکہ نبی کریم ﷺ نے (تجارتی قافلوں سے) آگے بڑھ کر ملنے سے بھی منع فرمایاہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2164]
حدیث حاشیہ:
(1)
محفلة کے معنی یہ ہیں کہ دودھ والے جانور کا ایک دن یا دو دن دودھ نہ دوہا جائے تاکہ دودھ اس کے تھنوں میں جمع ہوجائے۔
خریدار جب اس قسم کے جانور کو دوہتا ہے تو دودھ کے زیادہ ہونے کی وجہ سے جانور مہنگے داموں خرید لیتا ہے، اسے بعد میں پتا چلتا ہے کہ میرے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے،اس لیے شریعت نے اسے تین دن تک بیع واپس کرنے کا اختیار دیا ہے۔
اگر واپس کرنا چاہے تو جھگڑا ختم کرنے کےلیے صاع بھر کھجوریں ساتھ دے۔
(2)
تلقی البیوع کے معنی یہ ہیں کہ باہر سے کوئی قافلہ سامان تجارت لے کر آرہا ہو اور اس کے منڈی پہنچنے سے پہلے پہلے شہری لوگ آگے جاکر سستے داموں سامان خرید لیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا، جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2164 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1518 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان تجارت کو باہر جا کر ملنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3821]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بیوع، بیع کی جمع ہے لیکن بیع قابل فروخت چیز کے معنی میں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1518 سے ماخوذ ہے۔