حدیث نمبر: 1217
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْمِكْيَالِ وَالْمِيزَانِ : " إِنَّكُمْ قَدْ وُلِّيتُمْ أَمْرَيْنِ هَلَكَتْ فِيهِ الْأُمَمُ السَّالِفَةُ قَبْلَكُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا ، مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپ تول والوں سے فرمایا : ” تمہارے دو ایسے کام ۱؎ کیے گئے ہیں جس میں تم سے پہلے کی امتیں ہلاک ہو گئیں “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ہم اس حدیث کو صرف بروایت حسین بن قیس مرفوع جانتے ہیں ، اور حسین بن قیس حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں ۔ نیز یہ صحیح سند سے ابن عباس سے موقوفاً مروی ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی ناپ اور تول۔ اس حدیث کے آغاز میں امام ترمذی نے اپنے استاذ سعید بن یعقوب طالقانی سے اس روایت کی سند کا جو آغاز کیا ہے تو … یہ طالقان موجود افغانستان کے شمال میں واقع ہے، اور آج بھی وہاں سلفی اہل حدیث لوگ بحمدللہ موجود ہیں اور اپنے اسلاف کے ورثہ حدیث کو تھامے ہوئے ہیں۔
۲؎: مثلاً شعیب علیہ السلام کی قوم جو لینا ہوتا تو پورا پورا لیتی تھی اور دینا ہوتا تو کم دیتی تھی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1217
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف - والصحيح موقوف -، المشكاة (2890 / التحقيق الثاني) ، أحاديث البيوع // ضعيف الجامع الصغير (2040) // , شیخ زبیر علی زئی: (1217) إسناده ضعيف جدًا, حسين بن قيس : متروك (تقدم: 188)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 6026) (ضعیف) (سند میں ’’ حسین بن قیس ‘‘ متروک الحدیث راوی ہے، لیکن موقوفا یعنی ابن عباس کے قول سے ثابت ہے جیسا کہ مرفوع روایت کی تضعیف کے بعد امام ترمذی نے خود واضح فرمایا ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ناپ و تول کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپ تول والوں سے فرمایا: تمہارے دو ایسے کام ۱؎ کیے گئے ہیں جس میں تم سے پہلے کی امتیں ہلاک ہو گئیں ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1217]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ناپ اور تول۔
اس حدیث کے آغاز میں امام ترمذی نے اپنے اُستاذ سعید بن یعقوب طالقانی سے اس روایت کی سند کا جوآغاز کیا ہے تو... یہ طالقان موجودہ افغانستان کے شمال میں واقع ہے، اورآج بھی وہاں سلفی اہل حدیث لوگ بحمدللہ موجودہیں اور اپنے اسلاف کے ورثۂ حدیث کو تھامے ہوئے ہیں۔

2؎:
مثلاً شعیب علیہ السلام کی قوم جو لینا ہوتا تو پورا پورا لیتی تھی اور دینا ہوتا تو کم دیتی تھی۔

نوٹ:
(سند میں ’’حسین بن قیس‘‘ متروک الحدیث راوی ہے، لیکن موقوفاً یعنی ابن عباس کے قول سے ثابت ہے جیسا کہ مرفوع روایت کی تضعیف کے بعد امام ترمذی نے خود واضح فرمایا ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1217 سے ماخوذ ہے۔