سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي التَّبْكِيرِ بِالتِّجَارَةِ باب: سامان تجارت لے کر سویرے نکلنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً ، أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ أَوَّلَ النَّهَارِ ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا ، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ تِجَارَةً بَعَثَهُمْ أَوَّلَ النَّهَارِ ، فَأَثْرَى ، وَكَثُرَ مَالُهُ . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَبُرَيْدَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَلَا نَعْرِفُ لِصَخْرٍ الْغَامِدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ هَذَا الْحَدِيثَ .´صخر غامدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! میری امت کو اس کے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے “ ۱؎ صخر کہتے ہیں کہ آپ جب کسی سریہ یا لشکر کو روانہ کرتے تو اسے دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ کرتے ۔ اور صخر ایک تاجر آدمی تھے ۔ جب وہ تجارت کا سامان لے کر ( اپنے آدمیوں کو ) روانہ کرتے تو انہیں دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ کرتے ۔ تو وہ مالدار ہو گئے اور ان کی دولت بڑھ گئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- صخر غامدی کی حدیث حسن ہے ۔ ہم اس حدیث کے علاوہ صخر غامدی کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو ، ۲- اس باب میں علی ، ابن مسعود ، بریدہ ، انس ، ابن عمر ، ابن عباس ، اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
صخر غامدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے اللہ! میری امت کو اس کے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے “ ۱؎ صخر کہتے ہیں کہ آپ جب کسی سریہ یا لشکر کو روانہ کرتے تو اسے دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ کرتے۔ اور صخر ایک تاجر آدمی تھے۔ جب وہ تجارت کا سامان لے کر (اپنے آدمیوں کو) روانہ کرتے تو انہیں دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ کرتے۔ تو وہ مالدار ہو گئے اور ان کی دولت بڑھ گئی۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1212]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفرتجارت ہو یا اورکوئی کام ہو ان کا آغاز دن کے پہلے پہرسے کرنا زیادہ مفیداوربابرکت ہے، اس وقت انسان تازہ دم ہوتا ہے اورقوت عمل وافرہوتی ہے جو ترقی اوربرکت کا باعث بنتی ہے۔
نوٹ:
(متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’عمارہ بن جدید‘‘ مجہول ہیں، اور ان کے مذکورہ ’’ضعیف‘‘جملے کا کوئی متابع وشاہد نہیں ہے، تراجع الالبانی 277، وصحیح ابی داود ط۔
غراس 2345)
صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما “ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سریہ یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو اسے دن کے ابتدائی حصہ ہی میں روانہ فرماتے ۱؎۔ راوی کہتے ہیں: غامدی صخر تاجر تھے، وہ اپنا مال تجارت صبح سویرے ہی بھیجتے تھے بالآخر وہ مالدار ہو گئے، اور ان کی دولت بڑھ گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2236]
فوائد و مسائل:
(1)
صبح کا وقت بابرکت ہے، لہٰذا اسے مفید کاموں میں صرف کرنا چاہیے، غفلت اور نیند میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
(2)
صبح جلدی دکان کھولنا تاجر کے لیے باعث برکت ہے۔