سنن ترمذي
كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ باب: جنبی جب سونا چاہے تو وضو کر لے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَمَّارٍ , وَعَائِشَةَ , وَجَابِرٍ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَأُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عُمَرَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَالشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق ، قَالُوا : إِذَا أَرَادَ الْجُنُبُ أَنْ يَنَامَ تَوَضَّأَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ .´عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا : کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، جب وہ وضو کر لے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں عمار ، عائشہ ، جابر ، ابوسعید اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۲- عمر رضی الله عنہ والی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے ، ۳- یہی قول نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اصحاب اور تابعین میں سے بہت سے لوگوں کا ہے اور یہی سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ جب جنبی سونے کا ارادہ کرے تو وہ سونے سے پہلے وضو کر لے ۲؎ ۔
۲؎: یعنی مستحب ہے کہ وضو کر لے، یہی جمہور کا مذہب ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں، جب وہ وضو کر لے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 120]
1؎:
اس سے مراد وضو شرعی ہے لغوی نہیں، یہ وضو واجب ہے یا غیر واجب اس سلسلہ میں علماء میں اختلاف ہے، جمہور اس بات کی طرف گئے ہیں کہ یہ واجب نہیں ہے اور داود ظاہری اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ واجب ہے۔
اور پہلا قول ہی راجح ہے جس کی دلیل پچھلی حدیث ہے۔
2؎:
یعنی مستحب ہے کہ وضو کر لے، یہی جمہور کا مذہب ہے۔
1۔
سنن نسائی میں اس حدیث کا سبب ورود بایں الفاظ بیان ہوا ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ کو جنابت لاحق ہوئی تو وہ اپنے والد محترم حضرت عمر ؓ کے پاس آئے اور ان سے سونے کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے یہی سوال رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’وضو کر لے اور سو جائے۔
‘‘ اس بنا پر یہ واقعہ حضرت ابن عمر ؓ سے متعلق ہو گا اور جواب میں صیغہ خطاب اس لیے استعمال فرمایا کہ حضرت ابن عمر ؓ مجلس سوال میں موجود تھے اور مسئلہ بھی ان سے متعلق تھا تو رسول اللہ ﷺ نے براہ راست ان سے خطاب فرمایا کہ وضو کر لو، شرم گاہ دھو لو، پھر سو جاؤ، جیسا کہ آئندہ حدیث نمبر(290)
میں اس کی وضاحت ہے۔
(فتح الباري: 510/1)
2۔
پہلا عنوان عام تھا، کیونکہ وہاں (كَيْنُونَة)
کا لفظ ’’ہونا‘‘ کے معنی میں استعمال ہوا تھا، چاہے انسان مکان میں بیداری کی حالت میں ہو یا نیند کی حالت میں۔
اب یہ دوسرا باب عنوان خاص ہے، یعنی جنبی ہو سکتا ہے روایات میں سوال ہی کے اندر وضو کی قید موجود ہے، یعنی کیا ایسی صورت میں جنبی آدمی وضو کر کے سو سکتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے سوال کی رعایت کرتے ہوئے اس قید کو جواب میں دہرا دیا۔
ایسی قید میں مفہوم مخالف کی رعایت نہیں ہوتی۔
یہ مطلب نہیں کہ وضو کے بغیر سونا ناجائز ہے، بعض روایات میں نیند کو موت کی بہن کہا گیا ہے۔
(المعجم الأوسط للطبراني: حدیث: 923 والسلسلة الأحادیث الصحیحة، حدیث: 1087)
ہرانسان کی خواہش ہوتی ہے کہ مجھے موت اچھی حالت میں آئے اسی طرح انسان کا جذبہ ہونا چاہیے کہ نیند بھی اچھی حالت میں (باوضو)
آئے، وضو کرنا ضروری نہیں، افضل ہے اگرچہ بعض ظاہری حضرات اسے واجب قراردیتے ہیں۔
«. . . عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ " . . . .»
”. . . عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ رات میں انہیں غسل کی ضرورت ہو جایا کرتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر لیا کر اور شرمگاہ کو دھو کر سو جا۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ الْجُنُبِ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَنَامُ:: 290]
ان جملہ احادیث کا یہی مقصد ہے کہ جنبی وضو کر کے گھر میں سو سکتا ہے۔ پھر نماز کے واسطے غسل کر لے۔ کیونکہ غسل جنابت کئے بغیر نماز درست نہ ہو گی۔ مریض وغیرہ کے لیے رخصت ہے جیسا کہ معلوم ہو چکا ہے۔
1۔
(تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ)
سے مراد یہ ہے کہ نماز والا وضو کرتے تھے۔
یہ مطلب نہیں کہ ادائے نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔
نیز اس وضو سے مراد لغوی وضو نہیں، بلکہ شرعی وضو ہے۔
چنانچہ حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں۔
جمہور علماء کے نزدیک یہ وضو، وضوئے شرعی ہے اور اس وضو کی حکمت یہ ہے کہ اس سے حدث میں کمی آ جاتی ہے، خصوصاً جواز تفریق غسل کے قول پر یعنی ان حضرات کے قول پر جو غسل میں موالات ضروری خیال نہیں کرتے، لہٰذا اگر نیت غسل کر لے گا۔
تو اعضائے وضو سے تو رفع حدث ہو ہی جائے گا۔
اس کی تائید ابن ابی شیبہ کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے جس کے رجال ثقہ ہیں کہ اگر کسی کو رات میں جنابت لاحق ہو اور وہ سونا چاہے تو وضو کر لے، کیونکہ وضو کرنا نصف غسل جنابت ہے۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 113/1)
بعض نے یہ حکمت لکھی ہے کہ دو طہارتوں میں سے ایک طہارت کا حصول ہے اور اس بنا پر تیمم بھی وضو کے قائم مقام ہو سکتا ہے۔
بیہقی میں باسناد حسن حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بحالت جنابت جب سونے کا ارادہ فرماتے تو وضو یا تیمم کر لیتے تھے۔
(السنن الکبری للبیهقي: 200/1)
اگرچہ یہاں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ آپ کا یہ تیمم پانی ملنے میں دشواری کی بنا پر ہو۔
بعض حضرات نے اس وضو کی یہ حکمت بیان کی ہے کہ اس سے دوبارہ جماع کرنے یا غسل کرنے کے لیے نشاط پیدا ہو جاتا ہے۔
حافظ ابن دقیق العید ؒ نے امام شافعی ؒ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ تخفیف حدث والا یہ وضو حائضہ کے لیے نہیں ہے، کیونکہ وہ تو غسل بھی کر لے تو بھی اس کا حدث رفع نہیں ہوتا۔
البتہ خون حیض کے منقطع ہونے پر وضو کا استحباب ہوگا کہ اگر وہ انقطاع خون کے بعد سونا چاہے تو وضو کر کے سو جائے، جس طرح جنبی کے لیے حکم ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غسل جنابت فوراً کرنا ضروری نہیں، البتہ نماز کا وقت آنے پر غسل سے حکم میں شدت آجاتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نیند کے وقت (تنظيف) (صفائی ستھرائی)
مطلوب ہے۔
امام ابن جوزی ؒ نے اس کی حکمت بایں الفاظ بیان کی ہے کہ فرشتے میل کچیل، گندگی اور بدبو سے نفرت کرتے ہیں اور شیاطین ان چیزوں کے قریب ہوتے ہیں اس لیے کم ازکم وضو کا حکم ہے تاکہ فرشتوں کا قرب اور شاطین سے دوری حاصل ہو۔
(فتح الباري: 512/1)
2۔
جنبی جنابت کی حالت میں مختلف افعال بجا لاتا ہے ان کے اختلاف کی وجہ سے اس پر مختلف احکام مرتب ہوتے ہیں۔
مثلاً بحالت جنابت چلنا پھرنا یا مبادی غسل کے طور پر کوئی کام کرنا اس قسم کے افعال وضو کے بغیر کرنے میں کوئی حرج نہیں اور نہ ہی ان میں کوئی کراہت ہی کا پہلو ہے ان کے بعد کھانے پینے اور سونے کا درجہ ہے ان کے لیے جمہور نے طہارت صغری کو مستحب قراردیا ہے پھر دوسری مرتبہ جماع کرنے کا مرتبہ ہے اس کے لیے حدیث میں وضو کا حکم ہے اور اس کے متعلق امر کا صیغہ آیا ہے جو کہ یہاں وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب و ارشاد کے لیے ہے کیونکہ اس کا قرینہ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حکمت بایں الفاظ بیان فرمائی ہےکہ اس طرح وضو کرنا دوبارہ جماع کے لیے زیادہ نشاط پیدا کرتا ہے۔
امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے انھی الفاظ سے جمہور کے مسلک کے مطابق استحباب ہی پر استدلال کیا ہے۔
3۔
بہرحال بحالت جنابت نیند سے پہلے وضو کرنا ضروری نہیں، بلکہ مستحب اور افضل ہے اس کی تائید ایک روایت سے بھی ہوتی ہے کہ آپ نے غسل جنابت سے قبل سونے کے سوال پر فرمایا کہ ہاں سو سکتا ہے مگر وضو کرے اگر چاہے۔
(صحیح ابن خزیمة: 106/1۔
حدیث: 211) (إِن شَاءَ)
کے الفاظ سے وجوب نہیں بلکہ استحباب ثابت ہو تا ہے۔
1۔
(تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ)
سے مراد یہ ہے کہ نماز والا وضو کرتے تھے۔
یہ مطلب نہیں کہ ادائے نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔
نیز اس وضو سے مراد لغوی وضو نہیں، بلکہ شرعی وضو ہے۔
چنانچہ حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں۔
جمہور علماء کے نزدیک یہ وضو، وضوئے شرعی ہے اور اس وضو کی حکمت یہ ہے کہ اس سے حدث میں کمی آ جاتی ہے، خصوصاً جواز تفریق غسل کے قول پر یعنی ان حضرات کے قول پر جو غسل میں موالات ضروری خیال نہیں کرتے، لہٰذا اگر نیت غسل کر لے گا۔
تو اعضائے وضو سے تو رفع حدث ہو ہی جائے گا۔
اس کی تائید ابن ابی شیبہ کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے جس کے رجال ثقہ ہیں کہ اگر کسی کو رات میں جنابت لاحق ہو اور وہ سونا چاہے تو وضو کر لے، کیونکہ وضو کرنا نصف غسل جنابت ہے۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 113/1)
بعض نے یہ حکمت لکھی ہے کہ دو طہارتوں میں سے ایک طہارت کا حصول ہے اور اس بنا پر تیمم بھی وضو کے قائم مقام ہو سکتا ہے۔
بیہقی میں باسناد حسن حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بحالت جنابت جب سونے کا ارادہ فرماتے تو وضو یا تیمم کر لیتے تھے۔
(السنن الکبری للبیهقي: 200/1)
اگرچہ یہاں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ آپ کا یہ تیمم پانی ملنے میں دشواری کی بنا پر ہو۔
بعض حضرات نے اس وضو کی یہ حکمت بیان کی ہے کہ اس سے دوبارہ جماع کرنے یا غسل کرنے کے لیے نشاط پیدا ہو جاتا ہے۔
حافظ ابن دقیق العید ؒ نے امام شافعی ؒ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ تخفیف حدث والا یہ وضو حائضہ کے لیے نہیں ہے، کیونکہ وہ تو غسل بھی کر لے تو بھی اس کا حدث رفع نہیں ہوتا۔
البتہ خون حیض کے منقطع ہونے پر وضو کا استحباب ہوگا کہ اگر وہ انقطاع خون کے بعد سونا چاہے تو وضو کر کے سو جائے، جس طرح جنبی کے لیے حکم ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غسل جنابت فوراً کرنا ضروری نہیں، البتہ نماز کا وقت آنے پر غسل سے حکم میں شدت آجاتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نیند کے وقت (تنظيف) (صفائی ستھرائی)
مطلوب ہے۔
امام ابن جوزی ؒ نے اس کی حکمت بایں الفاظ بیان کی ہے کہ فرشتے میل کچیل، گندگی اور بدبو سے نفرت کرتے ہیں اور شیاطین ان چیزوں کے قریب ہوتے ہیں اس لیے کم ازکم وضو کا حکم ہے تاکہ فرشتوں کا قرب اور شاطین سے دوری حاصل ہو۔
(فتح الباري: 512/1)
2۔
جنبی جنابت کی حالت میں مختلف افعال بجا لاتا ہے ان کے اختلاف کی وجہ سے اس پر مختلف احکام مرتب ہوتے ہیں۔
مثلاً بحالت جنابت چلنا پھرنا یا مبادی غسل کے طور پر کوئی کام کرنا اس قسم کے افعال وضو کے بغیر کرنے میں کوئی حرج نہیں اور نہ ہی ان میں کوئی کراہت ہی کا پہلو ہے ان کے بعد کھانے پینے اور سونے کا درجہ ہے ان کے لیے جمہور نے طہارت صغری کو مستحب قراردیا ہے پھر دوسری مرتبہ جماع کرنے کا مرتبہ ہے اس کے لیے حدیث میں وضو کا حکم ہے اور اس کے متعلق امر کا صیغہ آیا ہے جو کہ یہاں وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب و ارشاد کے لیے ہے کیونکہ اس کا قرینہ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حکمت بایں الفاظ بیان فرمائی ہےکہ اس طرح وضو کرنا دوبارہ جماع کے لیے زیادہ نشاط پیدا کرتا ہے۔
امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے انھی الفاظ سے جمہور کے مسلک کے مطابق استحباب ہی پر استدلال کیا ہے۔
3۔
بہرحال بحالت جنابت نیند سے پہلے وضو کرنا ضروری نہیں، بلکہ مستحب اور افضل ہے اس کی تائید ایک روایت سے بھی ہوتی ہے کہ آپ نے غسل جنابت سے قبل سونے کے سوال پر فرمایا کہ ہاں سو سکتا ہے مگر وضو کرے اگر چاہے۔
(صحیح ابن خزیمة: 106/1۔
حدیث: 211) (إِن شَاءَ)
کے الفاظ سے وجوب نہیں بلکہ استحباب ثابت ہو تا ہے۔
«. . . ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ . . .»
”. . . عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ مجھے رات کو جنابت لاحق ہو جاتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”وضو کر لو، اور اپنا عضو تناسل دھو کر سو جاؤ . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 221]
➊ ’’وضو کرو، اپنی شرمگاہ دھو“ سے یہ ترتیب مراد نہیں، بلکہ پہلے استنجا کرنا اور شرمگاہ دھونا اور پھر وضو کرنا مراد ہے۔ اور یہ وضو مستحب اور تاکیدی ہے۔ علامہ ابن عبدالبر، شوکانی اور شیخ البانی وغیرہ رحمها اللہ یہی بیان کرتے ہیں۔ جبکہ اہل ظاہر اس کے وجوب کے قائل ہیں۔ علامہ ابن دقیق العید بھی اسی طرف مائل ہیں کہ اس میں امر اور شرط کے صیغے وارد ہوئے ہیں۔ بہرحال غسل مؤخر کرنا ہو تو وضو کرنے میں غفلت نہیں کرنی چاہئیے اور جنبی رہنے کو عادت بھی نہیں بنانا چاہئیے اور وضو آدھا غسل سمجھا جاتا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ رات میں جنبی ہو جاتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وضو کر لو اور اپنا عضو مخصوص دھو لو، پھر سو جاؤ۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 261]
«. . . 280- وبه: أنه قال: ذكر عمر بن الخطاب لرسول الله صلى الله عليه وسلم أنه تصيبه الجنابة من الليل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”توضأ واغسل ذكرك ثم نم“ . . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ (بعض اوقات) رات کو جنبی ہو جاتے ہیں (تو کیا کریں؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرو اور اپنی شرمگاہ (ذکر) دھو لو پھر سو جاؤ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 46]
تفقه:
➊ جنبی کو چاہئے کہ استنجا اور وضو کرکے اگر سونا چاہے تو سو جائے۔
➋ اگر کوئی مجبوری ہو تو وضو اور غسل کے بغیر جنبی سو سکتا ہے۔
امام سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر جنبی بغیر وضو کے سونا چاہے تو سو جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 1/61 ح667 وسندہ صحيح]
◄ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ جنابت میں وضو یا تیمّم کر کے سو جاتے تھے۔ دیکھئے: [السنن الكبريٰ للبيهقي 1/400 وسنده حسن غريب، وحسنه الحافظ ابن حجر رحمه الله فى فتح الباري 1/394 ح290]
◄ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب حالتِ جنابت میں ہوتیں تو وضو یا تیمّم کر کے سو جاتی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه 1/61 ح676 وسنده صحيح]
➌ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جنبی آدمی کو وضو کے بغیر نہیں سونا چاہئے۔ [الموطأ 1/48 ح106، وسنده صحيح]
➍ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ جب حالتِ جنابت میں کھانا کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا چہرہ اور کہنیوں تک دونوں ہاتھ دھوتے، سر کا مسح کرتے پھر کھانا کھاتے یا سو جاتے تھے۔ [الموطأ 1/48 ح107، وسنده صحيح]
➎ لوگوں کو دین سمجھانے کے لئے ضرورت کے وقت حق بات بیان کرنے سے نہیں شرمانا چاہئے۔
➏ جنابت سے مومن نجس نہیں ہوتا۔
اس سے ثابت ہوا کہ جنبی حالت جنابت میں سونے سے پہلے وضو کرے۔ یاد رہے کہ وضو مستحب ہے۔