حدیث نمبر: 1199
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ ظَاهَرْتُ مِنْ زَوْجَتِي فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا ، قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ ، فَقَالَ : " وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ " ، قَالَ : رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ ، قَالَ : " فَلَا تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللَّهُ بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا ، اس نے اپنی بیوی سے ظہار کر رکھا تھا اور پھر اس کے ساتھ جماع کر لیا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر رکھا ہے اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں نے اس سے جماع کر لیا تو کیا حکم ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” اللہ تم پر رحم کرے کس چیز نے تجھ کو اس پر آمادہ کیا ؟ “ اس نے کہا : میں نے چاند کی روشنی میں اس کی پازیب دیکھی ( تو مجھ سے صبر نہ ہو سکا ) آپ نے فرمایا : ” اس کے قریب نہ جانا جب تک کہ اسے کر نہ لینا جس کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1199
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (2065)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطلاق 17 (2221، 2222) (مرسلا بدون ذکر ابن عباس و موصولا بذکرہ (برقم: 2223) ، سنن النسائی/الطلاق 33 (3487) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق 26 (2065) ، ( تحفة الأشراف : 6036) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2222 | سنن نسائي: 3487

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3487 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ظہار کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر اس سے صحبت کر بیٹھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن میں کفارہ ادا کیے بغیر اس سے جماع کر بیٹھا۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، ایسا کر گزرنے پر تمہیں کس چیز نے مجبور کیا ہے ؟ اس نے کہا: چاند کی چاندنی میں میں نے اس کی پازیب دیکھی (تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس سے جماع کر بیٹھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3487]
اردو حاشہ: (1) ظہار سے مراد ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے: تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پشت۔ مقصود عورت کو حرام کرنا ہوتا ہے۔ اس کا کفارہ ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ اگر طاقت نہ ہو تو دوماہ کے پے در پے روزے رکھے۔ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ کفارے کی ادائیگی تک جماع کرنا حرام ہے۔ اگر ماں کے سوا بہن‘ بیٹی یا کسی اور محرم عورت سے تشبیہ دے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
(2) وہ کام کرے یعنی کفارہ ادا کرے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3487 سے ماخوذ ہے۔