مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1194
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ ، وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، تَذَاكَرُوا الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا الْحَامِلَ تَضَعُ عِنْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَعْتَدُّ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : بَلْ تَحِلُّ حِينَ تَضَعُ ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ ، فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : قَدْ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِيَسِيرٍ ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ` ابوہریرہ ، ابن عباس اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی الله عنہم نے آپس میں اس حاملہ عورت کا ذکر کیا جس کا شوہر فوت ہو چکا ہو اور اس نے شوہر کی وفات کے بعد بچہ جنا ہو ، ابن عباس رضی الله عنہما کا کہنا تھا کہ وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو مدت بعد میں پوری ہو گی اس کے مطابق وہ عدت گزارے گی ، اور ابوسلمہ کا کہنا تھا کہ جب اس نے بچہ جن دیا تو اس کی عدت پوری ہو گئی ، اس پر ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا : میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں ۔ پھر ان لوگوں نے ( ایک شخص کو ) ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس ( مسئلہ معلوم کرنے کے لیے ) بھیجا ، تو انہوں نے کہا : سبیعہ اسلمیہ نے اپنے شوہر کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد بچہ جنا ۔ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( شادی کے سلسلے میں ) مسئلہ پوچھا تو آپ نے اسے ( دم نفاس ختم ہوتے ہی ) شادی کرنے کی اجازت دے دی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1194
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (2113) ، صحيح أبي داود تحت الحديث (1196)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1485 | سنن نسائي: 3539 | سنن نسائي: 3540 | سنن نسائي: 3541 | سنن نسائي: 3542 | سنن نسائي: 3543 | سنن نسائي: 3544 | سنن نسائي: 3545

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3540 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔`
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس عورت (کی عدت) کے بارے میں پوچھا گیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور وہ (انتقال کے وقت) حاملہ رہی ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جو آخر میں ہو یعنی لمبی ہو اور دوسری کے مقابل میں بعد میں پوری ہوتی ہو ۱؎، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جس وقت عورت بچہ جنے اسی وقت اس کی عدت پوری ہو جائے گی۔ (یہ اختلاف سن کر) ابوسلمہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3540]
اردو حاشہ: کسی فتوے اور فیصلے میں ذاتی میلان کی بنا پر جانبداری سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اگر جانبداری کا خدشہ ہو تو قاضی اس کیس کی سماعت نہ کرے بلکہ کوئی دوسرا جج جو غیر جانبداری سے فیصلہ کرسکتا ہو‘ اس کیس کی سماعت کرے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3540 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3541 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔`
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنے شوہر کے انتقال کے بیس رات بعد بچہ جنا، کیا اس کے لیے نکاح کر لینا جائز و درست ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے بعد میں مکمل ہونے والی عدت کو پوری نہ کر لے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» یعنی جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3541]
اردو حاشہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ سوگ کی مدت تو ہر حال میں ضروری ہے اور وضع حمل بھی۔ چونکہ رسول اللہﷺ کا فرمان اس سے مختلف تھا‘ اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع فرما لیا تھا۔ رَضِي اللّٰہُ عَنْه وَأَرْضَاہُ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3541 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔