حدیث نمبر: 1188
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ كَالضِّلَعِ إِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا ، وَإِنْ تَرَكْتَهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا عَلَى عِوَجٍ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، وَسَمُرَةَ ، وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت کی مثال پسلی کی ہے ۱؎ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے یوں ہی چھوڑے رکھا تو ٹیڑھ کے باوجود تم اس سے لطف اندوز ہو گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے اور اس کی سند جید ہے ، ۲- اس باب میں ابوذر ، سمرہ ، اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی عورتوں کی خلقت ہی میں کچھ ایسی بات ہے، لہٰذا جس فطرت پر وہ پیدا کی گئیں ہیں اس سے انہیں بدلا نہیں جا سکتا۔ اس لیے ان باتوں کا لحاظ کر کے ان کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں تاکہ معاشرتی زندگی سکون اور آرام و چین کی ہو۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1188
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، التعليق الرغيب (3 / 72 - 73)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الرضاع 18 (1468) ، ( تحفة الأشراف : 13247) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/النکاح 79 (5184) ، صحیح مسلم/الرضاع (المصدر المذکور) ، مسند احمد (2/428، 449، 530) ، سنن الدارمی/النکاح 35 (2268) من غیر ہذا الوجہ۔»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5184 | صحيح مسلم: 1468 | مسند الحميدي: 1202

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عورتوں کی خاطر داری کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کی مثال پسلی کی ہے ۱؎ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے یوں ہی چھوڑے رکھا تو ٹیڑھ کے باوجود تم اس سے لطف اندوز ہو گے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1188]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی عورتوں کی خلقت ہی میں کچھ ایسی بات ہے، لہٰذا جس فطرت پر وہ پیداکی گئیں ہیں اس سے انہیں بدلا نہیں جا سکتا۔
اس لیے ان باتوں کا لحاظ کرکے ان کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں تاکہ معاشرتی زندگی سکون اورآرام وچین کی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1188 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5184 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5184. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت پسلی کی طرح ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ بیٹھو گے۔ اگر تم اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے ٹیڑھے پن کی موجودگی میں فائدہ حاصل کرتے رہو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5184]
حدیث حاشیہ: پسلی سے پیدا ہونے کا اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت حوا علیہا السلام حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا ہوئی تھیں پسلی اوپر ہی کی طرف سے زیادہ ٹیڑھی ہوتی ہے، اس طرح عورت بھی اوپر کی طرف سے یعنی زبان سے ٹیڑھی ہوتی ہے پس ان کی زبان درازی اور سخت گوئی پر صبر کرتے رہنا اسی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5184 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5184 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5184. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت پسلی کی طرح ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ بیٹھو گے۔ اگر تم اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے ٹیڑھے پن کی موجودگی میں فائدہ حاصل کرتے رہو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5184]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے: ’’عورت آپ کے مزاج کے مطابق بالکل سیدھی نہیں ہوگی، اس لیے اس میں ٹیڑھ کے ہوتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھاتے رہو۔
اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تو ٹوٹ جائے گی اور اس کا ٹوٹ جانا اسے طلاق مل جانا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الرضاع، حدیث: 3643 (715)
ایک دوسری روایت میں ہے: ’’پسلی کا ٹیڑھا حصہ اوپر کی طرف ہوتا ہے۔
‘‘(صحیح مسلم، الرضاع، حدیث: 3644 (715) (2)
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ عورت کا ٹیڑھا پن بھی اوپر کی طرف، یعنی زبان کی جانب ہے، اس لیے عورت کی زبان درازی اور سخت گوئی پر صبر کرتے ہوئے زندگی کے دن بسر کیے جائیں۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت ذات سے نرمی اور رواداری سے کام لینا چاہیے۔
نتیجے میں گھر اجڑ جاتے ہیں۔
والله اعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5184 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1468 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت پسلی کی طرح ہے اگر اس کو سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ ڈالو گے۔ اور اگر اسی طرح چھوڑ دو گے، تو اس کی کجی اور ٹیڑھ پن کے باوجود اس سے فائدہ اٹھا سکو گے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3650]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
عِوَجٌ: نظر آنے والی چیزوں کی کجی اور ٹیڑھ کو کہتے ہیں اور غیرمادی اشیاء میں کجی کو عِوَج کہتے ہیں۔
فوائد ومسائل: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو پسلی کے ساتھ تشبیہ دے کر، انتہائی بلیغ اور مؤثر طریقہ سے یہ بات سمجھا دی ہے کہ جس طرح پسلی کوسیدھا کرنا ممکن نہیں ہے اسی طرح عورت کو بالکل سیدھا کر دینا کہ اس کی کجی اور نقص مکمل طورپر دور ہو جائے ممکن نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے طبعی اور فطری طور پر اس کی سرشت میں کچھ درشتی اور بداخلاقی رکھی ہے اس کو گوارا کرنا چاہیے۔
اور اس کی کجی کو مکمل طور پر دور کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے وگرنہ اس کا نتیجہ ناچاقی اور طلاق نکلے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1468 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1202 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1202- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے وہ کسی بھی صورت میں تمہارے لیے سیدھی نہیں ہوسکتی، اگر تم اس سے نفع حاصل کرنا چاہتے ہو، تو اس کے ٹیڑ ھے پن سمیت اس سے نفع حاصل کرو، اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے، تو اسے توڑ دو گے اور اسے توڑنے سے مراد اسے طلاق دینا ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1202]
فائدہ:
اس حدیث میں عورت کی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ عورت فطری طور پر کج روی اور ٹیز ھے پن کو پسند کرتی ہے، اور اکثر معاملات میں یہ الٹ جاتی ہے، اس فطری کمزوری کے باوجود عورت کو ہی دنیا کی سب سے بہترین چیز کہا گیا ہے، جب وہ نیک ہو، اور عورت کو ہی شیطان کی رسیاں کہا گیا ہے، جب عورت نیکی اور تقوی سے دور ہو۔
انسان کو عورت بہت زیادہ فائدہ پہنچاتی ہے، مثلاً تسکین کا باعث ہے، ایمان کی حفاظت کا باعث ہے، اللہ تعالیٰ اس سے اولاد پیدا فرماتا ہے، امور خانہ کی حکمران ہے، وغیرہ۔
جب اس قدر زیادہ فوائد عورت سے حاصل ہوتے ہیں تو اس کے چھوٹے موٹے ٹیڑھے پن کو بھی برداشت کرنا چاہیے، یہ بھی یاد رہے کہ اس حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مرد ٹیڑھے نہیں ہوتے ہیں موجودہ دور میں کس قدر زیادہ مرد عورتوں سے بھی بدتر نظر آتے ہیں میں تعلیم و تربیت کے فقدان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمارے مسلمانوں کو قرآن و حدیث کا شعور عطا فرمائے، آمین۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1201 سے ماخوذ ہے۔