سنن ترمذي
كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طلاق اور لعان کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ لاَ طَلاَقَ قَبْلَ النِّكَاحِ باب: نکاح سے پہلے طلاق واقع نہ ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ، وَلَا عِتْقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ، وَلَا طَلَاقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَجَابِرٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَهُوَ قَوْلُ : أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، رُوِيَ ذَلِكَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَالْحَسَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، وَشُرَيْحٍ ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَرُوِيَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ : فِي الْمَنْصُوبَةِ إِنَّهَا تَطْلُقُ وَقَدْ رُوِيَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، وَالشَّعْبِيِّ وَغَيْرِهِمَا ، مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ قَالُوا : إِذَا وَقَّتَ نُزِّلَ وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّهُ إِذَا سَمَّى امْرَأَةً بِعَيْنِهَا ، أَوْ وَقَّتَ وَقْتًا ، أَوْ قَالَ : إِنْ تَزَوَّجْتُ مِنْ كُورَةِ كَذَا ، فَإِنَّهُ إِنْ تَزَوَّجَ ، فَإِنَّهَا تَطْلُقُ ، وَأَمَّا ابْنُ الْمُبَارَكِ فَشَدَّدَ فِي هَذَا الْبَابِ ، وَقَالَ : إِنْ فَعَلَ لَا أَقُولُ هِيَ حَرَامٌ ، وقَالَ أَحْمَدُ : إِنْ تَزَوَّجَ لَا آمُرُهُ ، أَنْ يُفَارِقَ امْرَأَتَهُ ، وقَالَ إِسْحَاق : أَنَا أُجِيزُ فِي الْمَنْصُوبَةِ ، لِحَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَإِنْ تَزَوَّجَهَا لَا أَقُولُ تَحْرُمُ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ ، وَوَسَّعَ إِسْحَاق فِي غَيْرِ الْمَنْصُوبَةِ وَذُكِرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، أَنَّهُ سُئِلَ ، عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ بِالطَّلَاقِ ، أَنَّهُ لَا يَتَزَوَّجُ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ هَلْ لَهُ رُخْصَةٌ بِأَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ رَخَّصُوا فِي هَذَا ؟ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ : إِنْ كَانَ يَرَى هَذَا الْقَوْلَ حَقَّا ، مِنْ قَبْلِ أَنْ يُبْتَلَى بِهَذِهِ الْمَسْأَلَةِ ، فَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِهِمْ فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَرْضَ بِهَذَا فَلَمَّا ابْتُلِيَ أَحَبَّ ، أَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِهِمْ فَلَا أَرَى لَهُ ذَلِكَ .´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن آدم کے لیے ایسی چیز میں نذر نہیں جس کا وہ اختیار نہ رکھتا ہو ، اور نہ اسے ایسے شخص کو آزاد کرنے کا اختیار ہے جس کا وہ مالک نہ ہو ، اور نہ اسے ایسی عورت کو طلاق دینے کا حق حاصل ہے جس کا وہ مالک نہ ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں علی ، معاذ بن جبل ، جابر ، ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ اور یہ سب سے بہتر حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے ، ۳- یہی صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا قول ہے ۔ اور علی بن ابی طالب ، ابن عباس ، جابر بن عبداللہ ، سعید بن المسیب ، حسن ، سعید بن جبیر ، علی بن حسین ، شریح ، جابر بن زید رضی الله عنہم ، اور فقہاء تابعین میں سے بھی کئی لوگوں سے یہی مروی ہے ۔ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے ، ۴- اور ابن مسعود سے مروی ہے انہوں نے منصوبہ ۱؎ کے سلسلہ میں کہا ہے کہ طلاق ہو جائے گی ، ۵- اور اہل علم میں سے ابراہیم نخعی اور شعبی وغیرہ سے مروی ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب وہ کسی وقت کی تحدید کرے ۲؎ تو طلاق واقع ہو جائے گی ۔ اور یہی سفیان ثوری اور مالک بن انس کا بھی قول ہے کہ جب اس نے کسی متعین عورت کا نام لیا ، یا کسی وقت کی تحدید کی یا یوں کہا : اگر میں نے فلاں محلے کی عورت سے شادی کی تو اسے طلاق ہے ۔ تو اگر اس نے شادی کر لی تو اسے طلاق واقع ہو جائے گی ، ۶- البتہ ابن مبارک نے اس باب میں شدت سے کام لیا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو میں یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ اس پر حرام ہو گی ، ۷- اور احمد کہتے ہیں : اگر اس نے شادی کی تو میں اسے یہ حکم نہیں دوں گا کہ وہ اپنی بیوی سے علاحدگی اختیار کر لے ، ۸- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میں ابن مسعود کی حدیث کی رو سے منسوبہ عورت سے نکاح کی اجازت دیتا ہوں ، اگر اس نے اس سے شادی کر لی ، تو میں یہ نہیں کہتا کہ اس کی عورت اس پر حرام ہو گی ۔ اور غیر منسوبہ عورت کے سلسلے میں اسحاق بن راہویہ نے وسعت دی ہے ، ۹- اور عبداللہ بن مبارک سے منقول ہے کہ ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جس نے طلاق کی قسم کھائی ہو کہ وہ شادی نہیں کرے گا ، پھر اسے سمجھ میں آیا کہ وہ شادی کر لے ۔ تو کیا اس کے لیے رخصت ہے کہ ان فقہاء کا قول اختیار کرے جنہوں نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے ؟ تو عبداللہ بن مبارک نے کہا : اگر وہ اس معاملے میں پڑنے سے پہلے ان کے رخصت کے قول کو درست سمجھتا ہو تو اس کے لیے ان کے قول پر عمل درست ہے اور اگر وہ پہلے اس قول سے مطمئن نہ رہا ہو ، اب آزمائش میں پڑ جانے پر ان کے قول پر عمل کرنا چاہے تو میں اس کے لیے ایسا کرنا درست نہیں سمجھتا ۔
۲؎: مثلاً یوں کہے «إن نكحت اليوم أو غداً» ” اگر میں نے آج نکاح کیا یا کل نکاح کروں گا “۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابن آدم کے لیے ایسی چیز میں نذر نہیں جس کا وہ اختیار نہ رکھتا ہو، اور نہ اسے ایسے شخص کو آزاد کرنے کا اختیار ہے جس کا وہ مالک نہ ہو، اور نہ اسے ایسی عورت کو طلاق دینے کا حق حاصل ہے جس کا وہ مالک نہ ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1181]
وضاحت:
1؎:
بعض نسخوں میں منصوبہ سین سے ہے یعنی منسوبہ، اور یہی صحیح ہے اس سے مراد وہ عورت ہے جو کسی قبیلے یا شہر کی طرف منسوب ہو یا منصوبہ سے مراد متعین عورت ہے۔
مثلاً کوئی خاص عورت جس سے ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی ہے یہ کہے کہ اگر ’’میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو اس کو طلاق‘‘ تو نکاح کے بعد اس پر طلاق پڑجائے گی، حالاں کہ فی الوقت یہ طلاق اس کی ملکیت میں نہیں ہے۔
2؎:
مثلاً یوں کہے ’’إن نَكَحتُ اليَومَ أَو غَداً‘‘(اگرمیں نے آج نکاح کیا یا کل نکاح کروں گا)
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3823]
(2) مباح چیزوں میں نذر ماننا جائز ہے‘ اللہ تعالیٰ کی معصیت میں نذر ماننا جائز نہیں۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس چیز کا بیچنا آدمی کے لیے جائز نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4616]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو ابن آدم کے اختیار میں نہ ہو، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں، اور نہ ناتا توڑنے میں، جو قسم کھائے اور پھر اسے بھلائی اس کے خلاف میں نظر آئے تو اس قسم کو چھوڑ دے (پوری نہ کرے) اور اس کو اختیار کرے جس میں بھلائی ہو کیونکہ اس قسم کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تمام حدیثیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں ۱؎ اور چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں مگر جو قسمیں بے سوچے کھائی جاتی ہیں اور ان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3274]
اس روایت میں (من خلف علی یمین)سے آخر تک کا حصہ ضعیف ہے۔
(علامہ البانی)اور جس کام پرقسم کھائی ہے۔
اسے ترک کرے تو کفارہ دینا راحج ہے۔
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس نذر کی کوئی حیثیت نہیں جس کا انسان مالک نہیں اور نہ ایسے غلام کا آزاد کرنا کوئی حیثیت رکھتا ہے جس کا انسان مالک ہی نہیں اور نہ طلاق واقع ہو گی جو اس کے دینے والے کے اختیار میں نہ ہو۔ “ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔ اس سلسلہ میں جو کچھ وارد ہے، یہ اس میں صحیح ترین ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 926»
«أخرجه أبوداود، الطلاق، باب في الطلاق قبل النكاح، حديث:2190، والترمذي، الطلاق واللعان، حديث:1181.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کا مالک ہی نہیں اس میں مالکانہ اختیارات استعمال کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
ان اختیارات کا استعمال ناقابل تسلیم ہے۔
2. یہ حدیث دلیل ہے کہ اجنبی عورت پر طلاق واقع نہیں ہوتی‘ مثلاً: ایک آدمی کسی دوسرے کی منکوحہ یا کسی غیر منکوحہ خاتون سے کہتا ہے کہ تو مطلقہ ہے اور وہی شخص بعد ازاں کسی وقت اسی عورت سے نکاح کرلیتاہے تو علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ عورت مطلقہ تصور نہیں ہوگی، لیکن کسی عورت کو اس طرح کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق، تواس صورت میں علماء و فقہاء کے تین اقول ہیں: ٭ امام شافعی‘ امام احمد‘ داود ظاہری رحمہم اللہ اور چند دیگر علماء کی رائے یہ ہے کہ ایسی عورت مطلقہ نہیں ہوگی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے بائیس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ قول نقل کیا ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہی حدیث ہے۔
٭ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایسی عورت مطلقہ ہو جائے گی۔
٭ تیسرا قول امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے کہ اگر کسی خاص قبیلے یا شہر کی عورت سے کہے یا کسی دن یا مہینے کے ساتھ مخصوص کرے تو اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر عمومی طور پر کہے تو واقع نہیں ہوگی۔
غلام کو آزاد کرنے اور نذر ماننے کا حکم بھی اسی طرح ہے۔
ان اقوال میں سے اقرب الی الصواب پہلا قول ہی ہے جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔