سنن ترمذي
كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طلاق اور لعان کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْخِيَارِ باب: عورت کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے اختیار دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ ، أَفَكَانَ طَلَاقًا ؟ " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْخِيَارِ فَرُوِيَ ، عَنْ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أنهما قَالَا : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ ، وَرُوِيَ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا ، قَالَا : أَيْضًا وَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَا شَيْءَ وَرُوِيَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ ، وقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : إِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ ، وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَثَلَاثٌ ، وَذَهَبَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفِقْهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ ، فِي هَذَا الْبَابِ إِلَى قَوْلِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ قَوْلُ : الثَّوْرِيِّ ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ، وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، فَذَهَبَ إِلَى قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا ( چاہیں تو ہم آپ کے نکاح میں رہیں اور چاہیں تو نہ رہیں ) ہم نے آپ کو اختیار کیا ۔ کیا یہ طلاق مانی گئی تھی ؟ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ( ساتھ رہنے اور نہ رہنے کے ) اختیار دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے ۔ ۳- عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کا کہنا ہے کہ اگر عورت نے خود کو اختیار کر لیا تو طلاق بائنہ ہو گی ۔ اور انہی دونوں کا یہ قول بھی ہے کہ ایک طلاق ہو گی اور اسے رجعت کا اختیار ہو گا ۔ اور اگر اس نے اپنے شوہر ہی کو اختیار کیا تو اس پر کچھ نہ ہو گا یعنی کوئی طلاق واقع نہ ہو گی ۲؎ ، ۴- اور علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے خود کو اختیار کیا تو طلاق بائن ہو گی اور اگر اس نے اپنے شوہر کو اختیار کیا تو ایک ہو گی لیکن رجعت کا اختیار ہو گا ، ۵- زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے اپنے شوہر کو اختیار کیا تو ایک ہو گی اور اگر خود کو اختیار کیا تو تین ہوں گی ، ۶- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم و فقہ اس باب میں عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کے قول کی طرف گئے ہیں اور یہی ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے ، ۷- البتہ احمد بن حنبل کا قول وہی ہے جو علی رضی الله عنہ کا ہے ۔
۲؎: اور یہی قول اس صحیح حدیث کے مطابق ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا (چاہیں تو ہم آپ کے نکاح میں رہیں اور چاہیں تو نہ رہیں) ہم نے آپ کو اختیار کیا۔ کیا یہ طلاق مانی گئی تھی؟ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1179]
وضاحت:
1؎:
استفہام انکاری ہے یعنی طلاق نہیں مانی تھی۔
(1)
جب بیوی خاوند کو اختیار کرے تو محض اختیار دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہاں، اگر وہ خود کو اختیار کرے تو طلاق ہو جائے گی۔
اس پر تقریباً تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔
(2)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صرف اختیار دینے سے طلاق بائنہ ہو جاتی ہے، خواہ وہ خاوند کو اختیار کرے۔
(جامع الترمذي، الطلاق و اللعان، حدیث: 1179)
لیکن مذکورہ احادیث اس موقف کی تردید کرتی ہیں۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وضاحت کرنے کے بعد اپنے موقف سے رجوع کرلیا تھا۔
(فتح الباري: 457/9)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک محض اختیار دینے سے طلاق رجعی واقع ہو جائے گی، اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امام لیث رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک طلاق بائنہ جس سے رجوع نہیں ہو سکتا واقع ہو جائے گی اور امام خطابی نے غلط طور پر اس کی نسبت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی طرف بھی کی ہے لیکن قاضی عیاض مالکی نے اس سے انکار کیا ہے۔
صحیح احادیث کی روسے جمہور کا مؤقف ہی صحیح ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں ۱؎ تو آپ نے اپنی اس کاروائی کی ابتداء مجھ سے کی: آپ نے کہا: عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ رکھتا ہوں، تم اپنے ماں باپ سے مشورہ لیے بغیر جواب دہی میں جلد بازی نہ کرنا، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ آپ خوب سمجھتے تھے کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدائی و علیحدگی اختیار کر لینے کا حکم نہیں دے سکتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين» سے لے کر یہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3204]
وضاحت:
1؎:
یعنی وہ چاہیں تو آپ کے ساتھ رہیں اور تنگی کی زندگی گزاریں، اوراگر دنیا اور دنیا کی زینت چاہتی ہیں تو نبی اکرمﷺکا ساتھ چھوڑ دیں۔
2؎: اے نبی! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجیئے کہ تمہیں اگر دنیا اور دنیا کی زینت چاہیے تو آؤ میں کچھ دے کر چھوڑ چھاڑ دوں، (طلاق کے ساتھ کچھ مال دے کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں) اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہو اور آخرت کا گھر تمہیں مطلوب ہے تو اللہ نے تم نیکو کاروں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کررکھا ہے (الأحزاب: 28۔ 29)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (اپنے عقد میں رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اسے کچھ بھی شمار نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2203]
1۔
اگر شوہر بیوی سے کہے مجھے اختیار کرلو یا اپنے آپ کو یا تمہیں اختیار ہے وغیرہ۔
اور نیت طلاق کی ہو۔
۔
۔
۔
۔
پھر اگر بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا تو طلاق ہو جائے گی۔
اور اگر شوہر کو اختیار کرلے تو نہیں ہوگی۔
2۔
فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی مالی حالت پہلے کی نسبت کچھ بہتر ہوگئی تو انصا رومہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر ازواج مطہرات نے بھی نان و نفقہ میں اضافہ کا مطالبہ کر دیا۔
نبیﷺ چونکہ نہایت سادگی پسند تھے اس لیے ازواج مطہرات کے اس مطالبے پر سخت کبیدہ خاطر ہوئےاور بیویوں سے علیحدگی اختیار کرلی جو ایک مہینے تک جاری رہی۔
بالآخر اللہ تعالی نےیہ آیت نازل فرمائی: (يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا (28) وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا) (الاحزاب:28-29) اس کے بعد نبی ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو یہ آیت سنا کر انہیں اختیار دیا۔
تاہم انہیں کہا کہ اپنے طور پر فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے والدین سے مشورے کے بعد کوئی اقدام کرنا۔
حضرت عائشہ نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے بارے میں مشورہ کروں۔
بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں۔
یہی بات دیگر ازواج مطہرات نے بھی کہی اور کسی نے بھی رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر دنیا کے عیش وآرام کو ترجیح نہیں دی۔
(صحیح بخاری تفسیر سورہ احزاب۔
ماخوذ از تفسیراحسن البیان)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا۔ کیا وہ طلاق تھا؟ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3204]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم سب نے آپ کو منتخب اور قبول کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم سے متعلق کچھ بھی شمار نہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3475]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم (ازواج مطہرات) کو اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو چن لیا، تو کیا یہ طلاق ہوئی؟ (نہیں، یہ طلاق نہیں ہوئی)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3471]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو اختیار دیا تو ہم نے آپ ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اس کو کچھ نہیں سمجھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2052]
فوائد و مسائل:
(1)
اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ جب فتوحات کے نتیجے میں مسلمانوں کی مالی حالت بہتر ہوگئی تو انصار و مہاجرین کی عورتوں کی بہتر حالت کو دیکھ کر امہات المومنین نے نبی اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ ان کے نان و نفقے میں اضافہ کی جائے۔
رسول اللہﷺ اس سے پریشان ہوئے اور ایک مہینہ امہات المومنین سے الگ تھلگ ایک بالا خانے میں تشریف فرما رہے۔
اس کے بعد اللہ تعالی نے سورۃ احزاب کے چوتھے رکوع کی آیات نازل فرمائیں جن میں اللہ تعالی نے فرمایا: ’’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیئے: اگر تمہیں دنیا کی دولت مطلوب ہے تو وہ تمہیں مل جائے گی لیکن اس کےلیے مجھ سے علیحدگی اختیار کرنی ہوگی۔
اوراگر میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو پھر اسی طرح قناعت کی زندگی گزارنی پڑ ے گی جس طرح اب تک صبر و شکر کے ساتھ رہتی رہی ہو۔‘‘
امہات المومنین رضی اللہ عنہن نے نبئ اکرمﷺ کے ساتھ صبرو قناعت سے رہنے کے حق میں فیصلہ دیا، چنانچہ وہ سب نبی ﷺ کے نکاح میں رہیں۔ (صحیح البخاري، الطلاق، باب من خیر أزواجه......، حدیث: 5262، وصحیح مسلم، الطلاق، باب فی الإیلاء واعتزال النساء و تخییرهن.....، حدیث: 1479)
(2)
مرد کی طرف سے عورت کو اختیا ردینا طلاق نہیں، البتہ اگر عورت اس اختیار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے الگ ہونے کا فیصلہ کرلے تو ایک رجعی طلاق واقع ہوجائے گی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خاوند کا بیوی کو اختیار دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیویوں کو اختیار دیا تھا، طلاق نہیں دی تھی۔