حدیث نمبر: 1174
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ : لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكَ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَرِوَايَةُ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ الشَّامِيِّينَ أَصْلَحُ وَلَهُ ، عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ ، وَأَهْلِ الْعِرَاقِ مَنَاكِيرُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو عورت بھی اپنے شوہر کو دنیا میں تکلیف پہنچاتی ہے تو ( جنت کی ) بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے اس کی بیوی کہتی ہے : تو اسے تکلیف نہ دے ۔ اللہ تجھے ہلاک کرے ، یہ تو ویسے بھی تیرے پاس بس مسافر ہے ، قریب ہے کہ یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ، ۲- اسماعیل بن عیاش کی روایتیں جنہیں انہوں نے اہل شام سے روایت کی ہیں بہتر ہے ، لیکن اہل حجاز اور اہل عراق سے ان کی روایتیں منکر ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الرضاع / حدیث: 1174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2014)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/النکاح 62 (2041) ، ( تحفة الأشراف : 11356) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2014

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2014 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´شوہر کو ستانے والی عورت کا بیان۔`
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو حورعین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اللہ تجھے ہلاک کرے، اسے تکلیف نہ دے، وہ تیرے پاس چند روز کا مہمان ہے، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2014]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  خاوند کے جائز احکام نہ ماننا کبیرہ گناہ ہے۔

(2)
  اگر کوئی عورت اپنےخاوند کو ناجائز تنگ کرتی ہے تواس سے جنت کی حوروں کو پریشانی ہوتی ہے۔

(3)
  ’’الحور العین‘‘ کے لفظی معنی گورے رنگ کی اور خوب صورت آنکھوں والی عورتیں ہیں۔
اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جنہیں اللہ تعالی نے جنتی مردوں کے لیے جنت میں اپنی خاص قدرت سے پیدا فرمایا ہے۔
مسلمان نیک عورتیں، جو دنیا میں اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی گزارتی ہیں، جنت میں ان کا مقام ان حوروں سے بڑھ کر ہوگا۔

(4)
عورت اور مرد کو ایک دوسرے کے جذبات اور ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے اچھے طریقے سے دنیا کی زندگی کا وقت گزارنا چاہیے۔
معلوم نہیں کب جدائی ہوجائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2014 سے ماخوذ ہے۔