حدیث نمبر: 1173
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت ( سراپا ) پردہ ہے ، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الرضاع / حدیث: 1173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (3109) ، الإرواء (273) ، التعليق على ابن خزيمة (1685) , شیخ زبیر علی زئی: (1173) إسناده ضعيف, قتاده مدلس وعنعن (تقدم:30)
تخریج حدیث «تفرد المؤلف بہذا الشق بہذا السند، وأخرج أبوداود الصلاة (54/570) بہذا السند الشق الأول، لہذا الحدیث فقط ’’ صلاة المرأة في بیتہا…الخ ( تحفة الأشراف : 9529) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عورتوں سے متعلق ایک اور باب۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت (سراپا) پردہ ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1173]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تاکہ وہ اس کے سبب لوگوں کو فتنے میں ڈالے۔
اورجوشخص عورت کے پردے کوختم کرے اُسے مردوں کے لیے دعوتِ گناہ کا ذریعہ بنانے کے درپے ہو وہ تو شیطان کا پورا پورا ہمدرداور اُس کا ساتھی ہوا، مسلمانو! آج کل کے روشن خیالوں سے اپنی عزتوں کو بچاؤاور اس ضمن میں اللہ سے ڈرجاؤاوریادرکھو:  ﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾ (البروج: 12)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1173 سے ماخوذ ہے۔