حدیث نمبر: 1162
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ خُلُقًا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو ، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الرضاع / حدیث: 1162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، الصحيحة (284)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15059) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4682 | معجم صغير للطبراني: 713

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4682 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4682]
فوائد ومسائل:
(أخلاق‘خلق) کی جمع ہے خا اور لام كے پیش کے ساتھ۔
اور اس سے مراد انسان کی عادات اور اعمال ہیں، عمدہ عادات کو ایمان کا کمال کہا گیا ہے۔
جس شخص کی عادات اور دوسروں کے ساتھ معاملات غلط ہوں وہ اتنا ہی ایمان میں ناقص ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4682 سے ماخوذ ہے۔