سنن ترمذي
كتاب الرضاع— کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ باب: عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1160
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طلق بن علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو اسے فوراً آنا چاہیئے اگرچہ وہ تنور پر ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی روٹی پکا رہی ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان۔`
طلق بن علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو اسے فوراً آنا چاہیئے اگرچہ وہ تنور پر ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1160]
طلق بن علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو اسے فوراً آنا چاہیئے اگرچہ وہ تنور پر ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1160]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: یعنی روٹی پکا رہی ہو۔
وضاحت: 1 ؎: یعنی روٹی پکا رہی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1160 سے ماخوذ ہے۔