مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1153
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ ، فَقَالَ : " غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ : مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ ، يَقُولُ : إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ ذِمَامَ الرَّضَاعَةِ ، وَحَقَّهَا ، يَقُولُ : إِذَا أَعْطَيْتَ الْمُرْضِعَةَ ، عَبْدًا أَوْ أَمَةً ، فَقَدْ قَضَيْتَ ذِمَامَهَا ، وَيُرْوَى عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا ذَهَبَتْ قِيلَ : هِيَ كَانَتْ أَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَحَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى هَؤُلَاءِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ يُكْنَى أَبَا الْمُنْذِرِ ، وَقَدْ أَدْرَكَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنَ عُمَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حجاج اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کے رسول ! مجھ سے حق رضاعت کس چیز سے ادا ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک جان : غلام یا لونڈی کے ذریعہ سے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اسی طرح اسے یحییٰ بن سعید قطان ، حاتم بن اسماعیل اور کئی لوگوں نے بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج بن حجاج عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ۔ اور سفیان بن عیینہ نے بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج بن أبي حجاج عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے ۔ صحیح وہی ہے جسے ان لوگوں نے ہشام بن عروۃ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے ۔ ( یعنی : «حجاج بن حجاج» والی نہ کہ «حجاج بن أبي حجاج» والی )
۳- اور «مايذهب عني مذمة الرضاعة» سے مراد رضاعت کا حق اور اس کا ذمہ ہے ۔ وہ کہتے ہیں : جب تم دودھ پلانے والی کو ایک غلام دے دو ، یا ایک لونڈی تو تم نے اس کا حق ادا کر دیا ، ۴- ابوالطفیل رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔ اتنے میں ایک عورت آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھا دی ، یہاں تک کہ وہ اس پر بیٹھ گئی ، جب وہ چلی گئی تو کہا گیا : یہی وہ عورت تھی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الرضاع / حدیث: 1153
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ضعيف أبي داود (351) // عندنا برقم (445 / 2064) ، ضعيف سنن النسائي (213 / 3329) ، المشكاة (3174) //
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3331 | سنن ابي داود: 2064 | مسند الحميدي: 901

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حق رضاعت کس چیز سے ادا ہوتا ہے۔`
حجاج اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کے رسول! مجھ سے حق رضاعت کس چیز سے ادا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ایک جان: غلام یا لونڈی کے ذریعہ سے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1153]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی ’’حجاج بن حجاح‘‘ تابعی ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1153 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3331 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´رضاعت کے حق و احترام کا بیان۔`
حجاج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: رضاعت کے حق کی ادائیگی کی ذمہ داری سے مجھے کیا چیز عہدہ بر آ کر سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: شریف غلام یا شریف لونڈی ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3331]
اردو حاشہ: (1) حقیقی والدہ کا حق تو ادا ہی نہیں ہوسکتا‘ البتہ جس کا دودھ پیا ہو‘ اسے خدمت لے لیے غلام یا لونڈی دے دیے جائیں تو حق ادا ہوجائے گا۔ جس طرح ا س نے اس کی بچپن میں خدمت کی تھی‘ اسی طرح یہ غلام یا لونڈی اس کی خدمت کریں گے۔ یہ تو صرف خدمت کا معاوضہ ہے۔ باقی رہے شفقت اور محبت جو رضاعی والدہ نے اس کے ساتھ کی تھی‘ ا س کے عوض تا حیات اس کا احترام کرے اور اسے اپنی ایک ماں سمجھے‘ جیسے رسول اللہﷺ نے ام یمنؓ کے بارے میں فرمایا:[أُمُّ أَیْمَنَ أُمِّیی بَعْدَ أُمِّیی] (اسد الغابة: رقم: 7371)
(2) آدمی کو احسان فراموش نہیں ہونا چاہیے بلکہ صاحب احسان یاد رکھنا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو اسے اس کا بدلہ دینا چاہیے اور اگر استطاعت نہ ہو تو اس کے حق میں دعا گو رہنا چاہیے۔
(3) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم احکام دین سمجھنے پر بہت حریص تھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3331 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2064 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دودھ چھڑانے کے وقت دودھ پلانے والی کو انعام دینے کا بیان۔`
حجاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دودھ پلانے کا حق مجھ سے کس طرح ادا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی یا غلام (دودھ پلانے والی کو خدمت کے لیے دے دینے) سے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2064]
فوائد ومسائل:
عربوں میں یہ رواج تھا کہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے قرب وجوار کے دیہاتوں میں اجرت پر بھیج دیا کرتےتھے، علاوہ ازیں وہ مقررہ اجرت کے علاوہ دودہ چھڑانے پر (مرضبعہ) دودھ پلانے والی انا کو کوئی انعام دینا بھی پسند کرتے تھے، اس حدیث میں اسی کا حق مرضعہ کی بابت بیان کیا گیا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2064 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 901 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
901-حجاج اسلمی اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! رضاعت کی وجہ سے لازم ہونے کے حق کو کون سی چیز ختم کردیتی ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیشانی، یعنی غلام یا کنیز (کو رضا عت کے معاوضے کے طور پرادا کرنا چاہیے) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:901]
فائدہ:
۔ اس حدیث میں رضاعت (وہ عورت جس نے کسی دوسرے بچے کو دودھ پلایا ہے) کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 900 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔