سنن ترمذي
كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَذْيِ يُصِيبُ الثَّوْبَ باب: کپڑے میں مذی لگ جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ هُوَ ابْنُ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ : كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً وَعَنَاءً فَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنْهُ الْغُسْلَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ " , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ ؟ قَالَ : " يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهِ ثَوْبَكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ مِنْهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق فِي الْمَذْيِ مِثْلَ هَذَا ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَذْيِ يُصِيبُ الثَّوْبَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا يُجْزِئُ إِلَّا الْغَسْلُ ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ , وَإِسْحَاق ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : يُجْزِئُهُ النَّضْحُ ، وقَالَ أَحْمَدُ : أَرْجُو أَنْ يُجْزِئَهُ النَّضْحُ بِالْمَاءِ .´سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے مذی کی وجہ سے پریشانی اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا تھا ، میں اس کی وجہ سے کثرت سے غسل کیا کرتا تھا ، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کیا اور اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” اس کے لیے تمہیں وضو کافی ہے “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر وہ کپڑے میں لگ جائے تو کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا : تو ایک چلو پانی لے اور اسے کپڑے پر جہاں جہاں دیکھے کہ وہ لگی ہے چھڑک لے یہ تمہارے لیے کافی ہو گا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ہم مذی کے سلسلہ میں اس طرح کی روایت محمد بن اسحاق کے طریق سے ہی جانتے ہیں ، ۳- کپڑے میں مذی لگ جانے کے سلسلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے ، بعض کا قول ہے کہ دھونا ضروری ہے ، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ، اور بعض اس بات کے قائل ہیں کہ پانی چھڑک لینا کافی ہو گا ۔ امام احمد کہتے ہیں : مجھے امید ہے کہ پانی چھڑک لینا کافی ہو گا ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے پریشانی اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا تھا، میں اس کی وجہ سے کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کیا اور اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ” اس کے لیے تمہیں وضو کافی ہے “، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ کپڑے میں لگ جائے تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تو ایک چلو پانی لے اور اسے کپڑے پر جہاں جہاں دیکھے کہ وہ لگی ہے چھڑک لے یہ تمہارے لیے کافی ہو گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 115]
1؎:
اور یہی راجح ہے کیونکہ حدیث میں ((نَضْحُ)) ’’چھڑکنا‘‘ ہی آیاہے، ہاں بطور نظافت کوئی دھولے تو یہ اس کی اپنی پسندہے، واجب نہیں۔
«. . . قَالَ: إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ . . .»
”. . . آپ نے فرمایا: اس میں صرف وضو کافی ہے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 210]
➊ اس سے معلوم ہوا کہ مذی کے نکلنے سے وضو تو ٹوٹ جائے گا، لیکن کپڑے کو دھونا ضروری نہیں، بلکہ اس جگہ پر چھینٹے مار لینا ہی کافی ہے۔