سنن ترمذي
كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْقِسْمَةِ لِلْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ باب: کنواری اور غیر کنواری بیوی کے درمیان باری تقسیم کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : " السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَفَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ بَعْضُهُمْ ، قَالَ : وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، قَالُوا : إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً بِكْرًا عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا ، ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمَا بَعْدُ بِالْعَدْلِ ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ، وَهُوَ قَوْلُ : مَالِكٍ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ : إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا لَيْلَتَيْنِ ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ .´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` اگر میں چاہوں تو کہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن انہوں نے صرف اتنا کہا : ” سنت ۱؎ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات رات ٹھہرے ، اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین رات ٹھہرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اسے محمد بن اسحاق نے مرفوع کیا ہے ، انہوں نے بسند «ایوب عن ابی قلابہ عن انس» روایت کی ہے اور بعض نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ، ۳- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اور کنواری سے شادی کرے ، تو اس کے پاس سات رات ٹھہرے ، پھر اس کے بعد ان کے درمیان باری تقسیم کرے ، اور پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی غیر کنواری ( بیوہ یا مطلقہ ) سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات ٹھہرے ۔ مالک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ۵- تابعین میں سے بعض اہل علم نے کہا کہ جب کوئی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس تین رات ٹھہرے اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں دو رات ٹھہرے ۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر میں چاہوں تو کہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن انہوں نے صرف اتنا کہا: ” سنت ۱؎ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات رات ٹھہرے، اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین رات ٹھہرے۔“ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1139]
وضاخت: 1؎:
صحابی کا ’’سنت یہ ہے‘‘ کہنا بھی حدیث کے مرفوع ہونے کا اشارہ ہے، تمام ائمہ کا یہی قول ہے۔
اور پھر باری جلدی آ جائےگی۔
اوردوسری حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ نئی دلہن اگر کنواری ہو تو اس کو باری سے الگ سات دن ملیں گے، پھر باری شروع ہو گی اوراگر شوہر دیدہ ہو تو تین دن کے بعد باری کا آغاز ہو جائےگا۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اسحاق رحمۃ اللہ علیہ۔
شعبی رحمۃ اللہ علیہ۔
اورنخعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم جمہور علماء کا یہی مؤقف ہے۔
امام سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ۔
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ۔
نافع رحمۃ اللہ علیہ۔
اور اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کنواری کے لیے تین دن اور بیوہ کے لیے دو دن زائد ہوں گے۔
لیکن احناف کے نزدیک پہلے دن سے ہی باری ہو گی، کوئی زائد دن نہیں ملے گا۔
پھر نئی دلہن کےپاس جتنے دن ٹھہرے گا بعد میں ہر بیوی کے ہاں اتنے ہی دن ٹھہرے گا۔
لیکن یہ بات حدیث کے منافی ہے نیز جب صحابی من السنۃ کا لفظ استعمال کرے تو یہ جمہور محدثین کے نزدیک حکماً مرفوع ہے اور خالد راوی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” غیر کنواری (شوہر دیدہ) کے لیے تین دن، اور کنواری کے لیے سات دن ہیں، (پھر باری تقسیم کر دیں) “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1916]
فوائد و مسائل:
(1)
پہلی بیوی یا بیویوں کی موجودگی میں جب نئی شادی کی جائے تو نئی دلہن کے پاس چند دن رہ کر پھر باری مقرر کرنی چاہیے۔
(2)
نئی آنے والی دلہن اگر بیوہ یا مطلقہ ہے یعنی یہ اس کا دوسرا نکاح ہے تو خاوند کو چاہیے کہ تین دن اس کے ہاں رہائش رکھے، یعنی اس کی رہائش کے لیے جو مکان یا کمرہ مقرر کیا ہے اس میں رہائش رکھے اور اگر نئی بیوی کنواری ہے تو پورا ایک ہفتہ اس کے ساتھ رہے۔
(3)
تین دن یا سات دن نئی بیوی کے پاس رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس دوران میں پہلی بیویوں کو فراموش ہی کر دے۔
مطلب یہ ہے کہ اسے زیادہ وقت دے اور رات اس کے ساتھ گزارے۔
(4)
یہ مدت ختم ہونے کے بعد نئی بیوی کے بھی اتنے ہی حقوق ہوں گے جتنے پہلی بیویوں کے ہیں۔
جس طرح دوسری بیویوں کی باری ہوگی، اسی طرح نئی بیوی کی بھی باری ہو گی۔
خاوند اخراجات اور شب باشی میں اس کے ساتھ دوسری بیویوں جیسا سلوک کرے گا۔
اس کے ہاں وہی رات گزارے گا جب اس کی باری ہو گی۔
كچھ حضرات کا موقف ہے کہ شوہر دیدہ اور کنواری کے لیے تین دن ہی قیام کیا جائے ان کا کہنا ہے کہ کنواری کے پاس سات دن اور شوہر دیدہ کے پاس تین دن عدل و انصاف کے منافی ہے لیکن یہ موقف مذکورہ احادیث کے خلاف ہے، نیز ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’آپ کا خاندان میرے ہاں انتہائی قابل احترام ہے، اگر آپ چاہتی ہیں تو آپ کے لیے سات دن تک قیام کرسکتا ہوں لیکن اس صورت میں باقی بیویوں کے پاس بھی سات سات دن رہوں گا، پھر باری مقرر کی جائے گی۔
اور اگر آپ چاہیں تو آپ کے ہاں تین دن قیام کر کے اس کے فوراً بعد باری مقرر کر دی جائے گی۔
‘‘ تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ میرے پاس تین دن ہی قیام رکھیں۔
(صحیح مسلم، الرضاع، حدیث: 3622 (1460)
نئی بیوی کو خاوند سے ذرا وحشت ہوتی ہے خصوصاً کنواری کو جس کے لئے سات دن اس لئے مقرر کئے کہ اس کی وحشت دور ہو کر اس کا دل مل جائے اس کے بعد پھر باری باری رہے تاکہ انصاف کے خلاف نہ ہو۔
(1)
یہ مسنون اس لیے ہے کہ کنواری میں شرم و حیا زیادہ ہوتی ہے۔
وہ محبت اور مہر و وفا کی بھی زیادہ حقدارہے، لہٰذا اس کے لیے سات دن مقرر کیے گئے ہیں تاکہ اس کی وحشت دور ہو جائے اور اس کا دل لگ جائے، نیز وہ آسانی اور شوہر کی نرمی کو پسند کرتی ہے جبکہ شوہر دیدہ کے لیے تین دن اس لیے مقرر ہیں کہ وہ جلدی مانوس ہو جاتی ہے اور ماحول میں گھل مل جاتی ہے۔
اس نے چونکہ شوہر کا تجربہ کیا ہوتا ہے اور جماع کی وجہ سے اس کی حیا بھی کم ہوتی ہے۔
(2)
واضح رہے کہ یہ وہ ایام ہوں گے جو میل ملاپ میں مانع نہ ہوں اور ان میں عورت کو حیض نہ آتا ہو۔
والله اعلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کوئی ثیبہ کے رہتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات رات رہے، اور جب ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات رہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے تو سچ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ” سنت اسی طرح ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2124]
1: صحابی کا کسی عمل کے بارے میں سنت کہہ دینا اس کے مرفوع ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔
2: تین یا سات دن کی خصوصیت ابتدائی دنوں کی ہے اس کے بعد عدل سے باری مقرر کر لی جائے اور طے شدہ نظام کے مطابق عمل کیا جائے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسنون طریقہ یہ ہے کہ جب مرد شوہر دیدہ پر کنواری بیاہ کر لائے تو اس نئی دلہن کے پاس پہلے سات روز قیام کرے پھر باری تقسیم کرے اور جب شوہر دیدہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین روز قیام کرے پھر باری تقسیم کرے۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 907»
«أخرجه البخاري، النكاح، باب إذا تزوج الثيب علي البكر، حديث:5214، مسلم، الرضاع، باب قدر ما تستحقه البكر والثيب من إقامة الزوج عندها عقبالزفاف، حديث:1461.»
تشریح: اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ نئی بیوی کے ساتھ زفاف کی راتیں بسر کرنا اس کا حق ہے اور دوسری بیویوں پر اسے ترجیح دی جائے گی۔
یہ مدت ختم ہونے کے بعد پھر نئی اور پرانی بیویاں باریوں کی تقسیم میں مساوی استحقاق رکھتی ہیں۔