مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1137
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : " كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي الْعَزْلِ ، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ : تُسْتَأْمَرُ الْحُرَّةُ فِي الْعَزْلِ وَلَا تُسْتَأْمَرُ الْأَمَةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اتر رہا تھا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- یہ حدیث اور بھی کئی طرق سے ان سے مروی ہے ، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے عزل کی اجازت دی ہے ۔ مالک بن انس کا قول ہے کہ آزاد عورت سے عزل کی اجازت لی جائے گی اور لونڈی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اگر عزل منع ہوتا تو اللہ تعالیٰ قرآن میں اس کی ممانعت نازل کر دیتا، البتہ آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل درست نہیں ہے، جیسا کہ امام مالک نے کہا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1137
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1927)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عزل کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اتر رہا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1137]
اردو حاشہ:
وضاخت: 1؎:
یعنی اگر عزل منع ہوتا تو اللہ تعالیٰ قرآن میں اس کی ممانعت نازل کردیتا، البتہ آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل درست نہیں ہے، جیسا کہ امام مالک نے کہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1137 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔