سنن ترمذي
كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْجَارِيَةَ وَهِيَ حَامِلٌ باب: آدمی کوئی لونڈی خریدے اور وہ حاملہ ہو تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَسْقِ مَاءَهُ وَلَدَ غَيْرِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، لَا يَرَوْنَ لِلرَّجُلِ إِذَا اشْتَرَى جَارِيَةً وَهِيَ حَامِلٌ أَنْ يَطَأَهَا حَتَّى تَضَعَ ، وَفِي الْبَاب : عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَالْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ .´رویفع بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی ( منی ) کسی غیر کے بچے کو نہ پلائے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- یہ اور بھی کئی طرق سے رویفع بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے ، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے ۔ یہ لوگ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں سمجھتے کہ وہ جب کوئی حاملہ لونڈی خریدے تو وہ اس سے صحبت کرے جب تک کہ اسے وضع حمل نہ ہو جائے ، ۴- اس باب میں ابو الدرداء ، ابن عباس ، عرباض بن ساریہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
رویفع بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی (منی) کسی غیر کے بچے کو نہ پلائے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1131]
وضاحت:
1؎:
یعنی جو لونڈی کسی اورسے حاملہ ہو پھروہ اسے خریدے تو اس سے صحبت نہ کرے جب تک کہ اسے وضع حمل نہ ہوجائے۔
حنش صنعانی کہتے ہیں کہ رویفع بن ثابت انصاری ہم میں بحیثیت خطیب کھڑے ہوئے اور کہا: سنو! میں تم سے وہی کہوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ جنگ حنین کے دن فرما رہے تھے: ” اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے کسی بھی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے سوا کسی اور کی کھیتی کو سیراب کرے “، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب حاملہ لونڈی سے جماع کرنا تھا) اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی قیدی لونڈی سے جماع کرے یہاں تک کہ وہ استبراء رحم کر لے، (یعنی یہ جان لے کہ یہ عورت حاملہ نہیں ہے) اللہ اور۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2158]
1: مومن مسلمان کے لئے اللہ اور یوم آخرت کے حوالے سے بات کرنا انتہائی اہمیت اور تاکید کی حامل ہوتی ہے۔
2: دوسرے کی کھیتی کو پانی دینا دوسرے کی بیوی سے مباشرت کرنا۔
یعنی زنا تو حرام ہے، مگر لونڈی کو جنگ میں ہاتھ آئی ہو استبراء سے پہلے اس سے قربت جائز نہیں۔
اگر حاملہ ہو تو وضع حمل کا انتظار واجب ہے۔
3: غنیمت میں اپنا حصہ متعین اور حاصل کرنے سے پہلے اس کو فروخت کرنا دھوکے کی ایک صورت ہے، نہ معلوم تھوڑا ملے گا یا زیادہ اور کس قیمت کا ہو گا؟
سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ غیر کی کھیتی کو اپنے پانی سے سیراب کرے۔ “ اس کی تخریج ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور بزار نے اسے حسن کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 957»
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في وطء السبايا، حديث:2158، والترمذي، النكاح، حديث:1131، وابن حبان(الإحسان):7 /169، 170، والبزار.»
تشریح: اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ جب عورت پہلے ایک مرد کے نطفے سے حاملہ ہو چکی ہو تو دوسرے مرد کے لیے اس سے وطی و جماع کرنا حلال نہیں۔
اور اس کی مثال اس لونڈی کی سی ہے جسے ایک آدمی نے کسی سے خریدا تو اس وقت وہ حاملہ تھی یا کوئی لونڈی کسی مرد کے پاس قید ہو کر آئی تو وہ حاملہ تھی‘ اب ایسی لونڈی کے خریدار یا مالک و آقا کے لیے اس کے ساتھ وطی و جماع کرنا حلال نہیں ہے جب تک کہ اس کا حمل وضع نہ ہو جائے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت رُوَیفع بن ثابت رضی اللہ عنہ» رویفع رافع سے تصغیر ہے۔
انصار کے قبیلۂبنو مالک بن نجار سے تھے۔
ان کا شمار مصریوں میں ہوتا ہے۔
۴۶ ہجری میں وفات پائی۔