سنن ترمذي
كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الشَّرْطِ عِنْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ باب: عقد نکاح کے وقت شرط لگانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوفَى بِهَا مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ " . حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : إِذَا تَزَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً وَشَرَطَ لَهَا أَنْ لَا يُخْرِجَهَا مِنْ مِصْرِهَا فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُخْرِجَهَا ، وَهُوَ قَوْلُ : بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَبِهِ يَقُولُ : الشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق ، وَرُوِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ قَالَ : شَرْطُ اللَّهِ قَبْلَ شَرْطِهَا كَأَنَّهُ رَأَى لِلزَّوْجِ أَنْ يُخْرِجَهَا وَإِنْ كَانَتِ اشْتَرَطَتْ عَلَى زَوْجِهَا أَنْ لَا يُخْرِجَهَا ، وَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَبَعْضِ أَهْلِ الْكُوفَةِ .´عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے زیادہ پوری کیے جانے کی مستحق وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعے تم نے شرمگاہیں حلال کی ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ انہیں میں عمر بن خطاب بھی ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ جب کسی شخص نے کسی عورت سے شادی کی اور یہ شرط لگائی کہ وہ اسے اس کے شہر سے باہر نہیں لے جائے گا تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے باہر لے جائے ، یہی بعض اہل علم کا قول ہے ۔ اور شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں ، ۳- البتہ علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ کی شرط یعنی اللہ کا حکم عورت کی شرط پر مقدم ہے ، گویا ان کی نظر میں شوہر کے لیے اسے اس کے شہر سے باہر لے جانا درست ہے اگرچہ اس نے اپنے شوہر سے اسے باہر نہ لے جانے کی شرط لگا رکھی ہو ، اور بعض اہل علم اس جانب گئے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور بعض اہل کوفہ کا بھی قول ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کوئی شخص مہر بندھواتے وقت دل میں نہ ادا کرنے کا خیال رکھتا ہو تو عنداللہ اس کا نکاح حلال نہ ہوگا۔
قسطلانی نے کہا مراد وہ شرطیں ہیں جو عقد نکاح کے مخالف نہیں ہیں، جیسے مباشرت یا نان و نفقہ کے متعلق شرطیں، لیکن اس قسم کی شرطیں کہ دوسرا نکاح نہ کرے گا یا لونڈی نہ رکھے گا، یا سفر میں نہ لے جائے گا، پوری کرنا ضروری نہیں بلکہ یہ شرطیں لغو ہوں گی۔
امام احمد اور اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ ہر قسم کی شرطیں پوری کرنی پڑیں گی، کیوں کہ حدیث مطلق ہے۔
مگر وہ شرطیں جو کتاب و سنت کے خلاف ہوں۔
شرائط کے متعلق دو باتیں قابل غور ہیں: ٭ یہ شرائط واجب اور ضروری ہیں یا ان کو پورا کرنا مستحب ہے؟ راجح بات یہ ہے کہ ان شرائط کو پورا کرنا واجب اور ضروری ہے الا یہ کہ فریقین میں افہام و تفہیم ہو جائے۔
٭ دوسری بات یہ ہے کہ ان شرائط کا تعلق صرف عقد نکاح سے ہے، جیسے مہر کی ادائیگی اور اخراجات وغیرہ یا اس سے مراد وہ تمام شرائط ہیں جو عقد نکاح کے وقت طے پا جائیں؟ اس بارے میں علماء کی دونوں رائے ہیں۔
ہمارا رجحان یہ ہے کہ نکاح کے وقت جو شرائط طے ہو جائیں ان کا پورا کرنا ضروری ہے بشرطیکہ وہ کتاب و سنت کے خلاف نہ ہوں کیونکہ حدیث مطلق ہے، اسے صرف نکاح سے متعلق شرائط کے ساتھ خاص کرنا صحیح نہیں۔
ہاں کوئی شرط شریعت کے خلاف ہو تواسے توڑ دینا لازم ہے۔
نکاح کے وقت فریقین کے درمیان جو شرائط رکھی جائیں، ان کا پورا کرنا ضروری ہے، مثلاً: مرد دوسری شادی نہیں کرے گا یا اسے ملک سے باہر نہیں لےجائے گا یا اسے اتنا خرچہ دے گا یا گھر میں نوکرانی کا بندوبست کرے گا وغیرہ۔
ایسی شرائط کا پورا کرنا خاوند پر لازم ہے، بصورت دیگر عورت کو حق ہوگا کہ وہ حاکم وقت کے پاس فریاد کرے اور اسے خاوند سے علیحدگی کی درخواست دے۔
ہاں اگر کوئی شرط کتاب و سنت کے خلاف ہو تو اس کا توڑنا لازم ہے، مثلاً: خاوند اس سے مباشرت نہیں کرے گا وغیرہ تو ایسی شرائط کو پورا نہیں کیا جائے گا۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ مستحق شرطیں وہ ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2139]
امام صاحبؒ کا استدال ہے کہ ایسی شرطوں کا پورا کرنا واجب ہے بشرطیکہ کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہ ٹھہرایا گیا ہو۔
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " (نکاح کی) شرطوں میں سب سے پہلے پوری کی جانے والی شرط وہ ہے جس کے ذریعہ تم عورتوں کی شرمگاہیں اپنے لیے حلال کرتے ہو (یعنی مہر کی ادائیگی)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3283]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سب سے زیادہ پوری کی جانے کی مستحق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1954]
فوائد و مسائل:
(1)
نکاح مرد اور عورت کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس میں کچھ فرائض مردوں پر عائد ہوتے ہیں اور کچھ عورتوں پر، لہٰذا مرد و عورت دونوں کو چاہیے کہ ان فرائض کا خیال رکھیں۔
(2)
نکاح کے موقع پر حالات کے مطابق مزید شرطیں رکھی جاسکتی ہیں جن کی وجہ سے عورت کو اس مرد سے نکاح کی ترغیب ہو، مثلاً: مرد کہتا ہے اگر تم نے مجھ سے نکاح کیا تو میں تمہیں اس قدر جیب خرچ دیا کروں گا یا فلاں مکان تمہارے نام الاٹ کردوں گا۔
نکاح کے بعد مرد کا فرض ہے کہ یہ شرطیں پوری کرے۔
(3)
مرد کو اس قسم کا وعدہ نہیں کرنا چاہیے جس میں شرعاً قباحت پائی جائے عورت کو بھی اس قسم کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے مثلاً: مرد سے یہ مطالبہ کہ وہ پہلی بیوی کو طلاق دے دے۔
مرد کو بھی چاہیے کہ عورت سے ناجائز مطالبات نہ کرے، مثلاً: یہ مطالبہ کہ عورت غیر محرموں سے پردہ نہ کرے۔
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " وہ شرط پورا کئے جانے کا زیادہ حق رکھتی ہے جس کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔ " (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 847»
«أخرجه البخاري، النكاح، باب الشروط في النكاح، حديث:5151، ومسلم، النكاح، باب الوفاء بالشروط في النكاح، حديث:1418.»
تشریح: 1 .اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو شرائط سب سے زیادہ پوری کرنے کی مستحق ہیں وہ شروط نکاح ہیں کیونکہ اس کا معاملہ بڑا ہی محتاط اور نازک ہے۔
2.یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ نکاح میں شرط طے کرنا جائز ہے اور اسے پورا کرنا ضروری ہے۔
3. نکاح کی شرطوں سے کیا مراد ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ادائیگی ٔ مہر ہے کیونکہ مہر وطی سے مشروط ہے۔
اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ سب کچھ ہے جس کی عورت زوجیت کے تقاضے میں مستحق ٹھہرتی ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مقصود ہر وہ شرط ہے جو خاوند عورت کو نکاح پر آمادہ کرنے کے لیے طے کر لے بشرطیکہ شریعت میں ممنوع نہ ہو۔
سیاق حدیث کی رو سے یہی آخری رائے زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔