حدیث نمبر: 1120
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ اسْمُهُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَغَيْرُهُمْ ، وَهُوَ قَوْلُ : الْفُقَهَاءِ مِنَ التَّابِعِينَ ، وَبِهِ يَقُولُ : سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَالشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق ، قَالَ : وسَمِعْت الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ يَذْكُرُ ، عَنْ وَكِيعٍ ، أَنَّهُ قَالَ بِهَذَا ، وقَالَ : يَنْبَغِي أَنْ يُرْمَى بِهَذَا الْبَابِ مِنْ قَوْلِ أَصْحَابِ الرَّأْيِ ، قَالَ جَارُودُ : قَالَ وَكِيعٌ : وَقَالَ سُفْيَانُ : إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ لِيُحَلِّلَهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا حَتَّى يَتَزَوَّجَهَا بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور کرانے والے ( دونوں ) پر لعنت بھیجی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی اور طرق سے بھی روایت کی گئی ہے ، ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ۔ جن میں عمر بن خطاب ، عثمان بن عفان ، عبداللہ بن عمر وغیرہم رضی الله عنہم بھی شامل ہیں ۔ یہی تابعین میں سے فقہاء کا بھی قول ہے اور یہی سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ، وکیع نے بھی یہی کہا ہے ، ۴- نیز وکیع کہتے ہیں : اصحاب رائے کے قول کو پھینک دینا ہی مناسب ہو گا ۱؎ ، ۵- سفیان ثوری کہتے ہیں : آدمی جب عورت سے نکاح اس نیت سے کرے کہ وہ اسے ( پہلے شوہر کے لیے ) حلال کرے گا پھر اسے اس عورت کو اپنی زوجیت میں رکھ لینا ہی بھلا معلوم ہو تو وہ اسے اپنی زوجیت میں نہیں رکھ سکتا جب تک کہ اس سے نئے نکاح کے ذریعے سے شادی نہ کرے ۔

وضاحت:
۱؎: اصحاب الرائے سے مراد امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ نکاح حلالہ صحیح ہے گو حلال کرنے کی ہی نیت سے ہو۔ ان کی رائے کو چھوڑ دینا اس لیے مناسب ہے کہ ان کا یہ قول حدیث کے مخالف ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1120
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر ما قبله (1119)
تخریج حدیث «سنن النسائی/الطلاق 13 (3445) ، (في سیاق طویل) ( تحفة الأشراف : 9595) ، مسند احمد (1/448، 450، 451، 462) ، سنن الدارمی/النکاح 53 (2304) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حلالہ کرنے اور کرانے والے پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور کرانے والے (دونوں) پر لعنت بھیجی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1120]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اصحاب الرائے سے مراد امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ نکاح حلالہ صحیح ہے گوحلال کرنے کی ہی نیت سے ہو۔
ان کی رائے کوچھوڑدینا اس لیے مناسب ہے کہ ان کا یہ قول حدیث کے مخالف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1120 سے ماخوذ ہے۔