مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1119
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُبَيْدٍ الْأَيَامِيُّ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَا : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَلِيٍّ ، وَجَابِرٍ حَدِيثٌ مَعْلُولٌ ، وَهَكَذَا رَوَى أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ هُوَ : الشَّعْبِيُّ، عنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَائِمِ ، لِأَنَّ مُجَالِدَ بْنَ سَعِيدٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ ، مِنْهُمْ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَهَذَا قَدْ وَهِمَ فِيهِ ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَالْحَدِيثُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ ، وَقَدْ رَوَاهُ مُغِيرَةُ، وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ، وغير واحد ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت بھیجی ہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- علی اور جابر رضی الله عنہما کی حدیث معلول ہے ، ۲- اسی طرح اشعث بن عبدالرحمٰن نے بسند «مجالد عن عامر هو الشعبي عن الحارث عن علي» روایت کی ہے ۔ اور عامر الشعبی نے بسند «جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ، ۳- اس حدیث کی سند کچھ زیادہ درست نہیں ہے ۔ اس لیے کہ مجالد بن سعید کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے ۔ انہی میں سے احمد بن حنبل ہیں ، ۴- نیز عبداللہ بن نمیر نے اس حدیث کو بسند «مجالد عن عامر عن جابر بن عبد الله عن علي» روایت کی ہے ، اس میں ابن نمیر کو وہم ہوا ہے ۔ پہلی حدیث زیادہ صحیح ہے ، ۵- اور اسے مغیرہ ، ابن ابی خالد اور کئی اور لوگوں نے بسند «الشعبی عن الحارث عن علی» روایت کی ہے ، ۶- اس باب میں ابن مسعود ، ابوہریرہ ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: «محلل» وہ شخص ہے جو طلاق دینے کی نیت سے مطلقہ ثلاثہ سے نکاح و مباشرت کرے، اور «محلل لہ» سے پہلا شوہر مراد ہے جس نے تین طلاقیں دی ہیں، اور طریقہ سے اپنی عورت سے دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہے یہ حدیث دلیل ہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح باطل اور حرام ہے کیونکہ لعنت حرام فعل ہی پر کی جاتی ہے، جمہور اس کی حرمت کے قائل ہیں، حنفیہ اسے جائز کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1119
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1535) , شیخ زبیر علی زئی: (1119) إسناده ضعيف /د 2076، جه 1935, مجالد ضعيف (تقدم: 653) ولأصل الحديث شواھد كثيرة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حلالہ کرنے اور کرانے والے پر وارد وعید کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1119]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
محلل وہ شخص ہے جوطلاق دینے کی نیت سے مطلقہ ثلاثہ سے نکاح ومباشرت کرے، اورمحلل لہ سے پہلا شوہرمرادہے جس نے تین طلاقیں دی ہیں، اورطریقہ سے اپنی عورت سے دوبارہ شادی کرناچاہتاہے یہ حدیث دلیل ہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح باطل اورحرام ہے کیونکہ لعنت حرام فعل ہی پر کی جاتی ہے، جمہوراس کی حرمت کے قائل ہیں، حنفیہ اسے جائز کہتے ہیں۔

نوٹ:

شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ جابر کی حدیث میں ’’مجاہد‘‘ اور علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ’’حارث اعور‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1119 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔