سنن ترمذي
كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي نِكَاحِ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ باب: مالک کی اجازت کے بغیر غلام کے نکاح کر لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1112
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس غلام نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی وہ زانی ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 843 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(نکاح کے متعلق احادیث)`
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس غلام نے اپنے مالکوں اور اپنے اہل کی اجازت کے بغیر نکاح کیا وہ زانی ہے۔ “ اسے احمد، ابوداؤد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے اور اسی طرح ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 843»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس غلام نے اپنے مالکوں اور اپنے اہل کی اجازت کے بغیر نکاح کیا وہ زانی ہے۔ “ اسے احمد، ابوداؤد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے اور اسی طرح ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 843»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في نكاح العبد بغير إذن مواليه، حديث:2078، والترمذي، النكاح، حديث:1111، وأحمد:3 /300، 301، 382، وابن حبان:ينظر عنده، والحاكم:2 /194، ابن عقيل ضعيف.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ سنن ابو داود کی تحقیق کرتے ہوئے اسی مفہوم کی ایک حدیث بیان کی ہے جسے انھوں نے سنداً قوی قرار دیا ہے ‘ نیز شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس پر تفصیلاً بحث کرتے ہوئے اسے حسن قرار دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نذدیک بھی معناََصحیح اور قابل عمل ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید دیکھیے: (الإرواء: ۶ /۳۵۱- ۳۵۳)
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في نكاح العبد بغير إذن مواليه، حديث:2078، والترمذي، النكاح، حديث:1111، وأحمد:3 /300، 301، 382، وابن حبان:ينظر عنده، والحاكم:2 /194، ابن عقيل ضعيف.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ سنن ابو داود کی تحقیق کرتے ہوئے اسی مفہوم کی ایک حدیث بیان کی ہے جسے انھوں نے سنداً قوی قرار دیا ہے ‘ نیز شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس پر تفصیلاً بحث کرتے ہوئے اسے حسن قرار دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نذدیک بھی معناََصحیح اور قابل عمل ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید دیکھیے: (الإرواء: ۶ /۳۵۱- ۳۵۳)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 843 سے ماخوذ ہے۔