حدیث نمبر: 1106
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسے سبھی خطبے جس میں تشہد نہ ہو اس ہاتھ کی طرح ہیں جس میں کوڑھ ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1106
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الأجوبة الناقصة (48) ، تمام المنة - التحقيق الثاني -
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأدب 22 (4841) ، ( تحفة الأشراف : 1497) ، مسند احمد (2/343) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4841

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4841 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´خطبہ کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں تشہد نہ ہو تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے (یعنی وہ ناتمام اور ناقص ہے) یا اس ہاتھ کی طرح ہے جس میں جذام ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4841]
فوائد ومسائل:
اہم خطبہ، تقریر اور درس کی ابتدا میں تشہد پڑھنا تاکیدی سنت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4841 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4841 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درج ذیل خطبہ مطلقاً ثابت ہے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَ نَسْتَعِيْنُهُ، مَنْ يَّهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَ مَنْ يُّضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ، وَ أَشْهَدُ أَن لاَّ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَ (أَشْهَدُ) أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ، أَمَّا بَعْدُ:» [صحيح مسلم: 868، سنن النسائي 6/ 89۔ 90 ح 3280 وسنده صحيح والزيادة منه]
«فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيْثِ كِتَابُ اللهِ، وَ خَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَ شَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا وَ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ» [صحيح مسلم: 867]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں تشہد نہ ہو، اُس ہاتھ کی طرح ہے جو جذام زدہ (یعنی عیب دار اور ناقص) ہے۔ [سنن ابي داود: 4841، وسنده صحيح وصححه الترمذي: 1106، و ابن حبان: 1994، 579]
تشہد سے مراد کلمۂ شہادت ہے۔ دیکھئے: [عون المعبود 4/ 409]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 75 صفحہ 17 اور علمی مقالات جلد 3 صفحہ 157
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 157 سے ماخوذ ہے۔