سنن ترمذي
كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّاعِي باب: دعوت قبول کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1098
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَالْبَرَاءِ ، وَأَنَسٍ ، وَأَبِي أَيُّوبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہیں دعوت دی جائے تو تم دعوت میں آؤ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں علی ، ابوہریرہ ، براء ، انس اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5179 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5179. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہیں اس (ولیمے) کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرو۔“ راوی نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ اگر روزے سے ہوتے تو بھی شادی اور غیر شادی کی دعوت میں ضرور شرکت کرتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5179]
حدیث حاشیہ: اگر نفلی روزہ ہے تو اسے کھول کر ایسی دعوتوں میں شریک ہونا بہتر ہے کیونکہ ان سے محبت باہمی بڑھتی ہے، باہمی میل ملاپ پیدا ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5179 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5179 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5179. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہیں اس (ولیمے) کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرو۔“ راوی نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ اگر روزے سے ہوتے تو بھی شادی اور غیر شادی کی دعوت میں ضرور شرکت کرتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5179]
حدیث حاشیہ:
(1)
دعوت ولیمہ میں شرکت کرنی چاہیے، وہاں جا کر کھانا کھانا ضروری نہیں، چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تمھیں کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرو، وہاں جاکر اگر چاہے تو کھالے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔
‘‘ (صحیح مسلم، النکاح، حدیث: 3518 (1430) (2)
اگر کسی نے نفلی روزہ رکھا ہے تو دعوت کی خاطر اسے توڑا بھی جا سکتا ہے کیونکہ اس سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور آپس میں میل ملاپ پیدا ہوتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے طبرانی کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک آدمی نے دعوتِ طعام کا اہتمام کیا تو کسی نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے بھائی نے تمھیں دعوت دی ہے اور اس سلسلے میں اس نے تکلف سے کام لیا ہے، تم روزہ چھوڑ دو اگر چاہو تو اس کے بدلے کسی اور دن روزہ رکھ لو۔
‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 152/4، رقم: 3264، طبع مکتبة المعارف)
لیکن اس کی سند کمزور ہے، البتہ یہ متابعت و شواہد میں پیش کی جا سکتی ہے۔
(فتح الباري: 308/9)
(1)
دعوت ولیمہ میں شرکت کرنی چاہیے، وہاں جا کر کھانا کھانا ضروری نہیں، چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تمھیں کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرو، وہاں جاکر اگر چاہے تو کھالے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔
‘‘ (صحیح مسلم، النکاح، حدیث: 3518 (1430) (2)
اگر کسی نے نفلی روزہ رکھا ہے تو دعوت کی خاطر اسے توڑا بھی جا سکتا ہے کیونکہ اس سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور آپس میں میل ملاپ پیدا ہوتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے طبرانی کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک آدمی نے دعوتِ طعام کا اہتمام کیا تو کسی نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے بھائی نے تمھیں دعوت دی ہے اور اس سلسلے میں اس نے تکلف سے کام لیا ہے، تم روزہ چھوڑ دو اگر چاہو تو اس کے بدلے کسی اور دن روزہ رکھ لو۔
‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 152/4، رقم: 3264، طبع مکتبة المعارف)
لیکن اس کی سند کمزور ہے، البتہ یہ متابعت و شواہد میں پیش کی جا سکتی ہے۔
(فتح الباري: 308/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5179 سے ماخوذ ہے۔