سنن ترمذي
كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْوَلِيمَةِ باب: ولیمہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَعَامُ أَوَّلِ يَوْمٍ حَقٌّ ، وَطَعَامُ يَوْمِ الثَّانِي سُنَّةٌ ، وَطَعَامُ يَوْمِ الثَّالِثِ سُمْعَةٌ ، وَمَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَزِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ كَثِيرُ الْغَرَائِبِ وَالْمَنَاكِيرِ ، قَالَ : وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يَذْكُرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ : قَالَ وَكِيعٌ : زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَعَ شَرَفِهِ يَكْذِبُ فِي الْحَدِيثِ .´ابن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پہلے روز کا کھانا حق ہے ، دوسرے روز کا کھانا سنت ہے ۔ اور تیسرے روز کا کھانا تو محض دکھاوا اور نمائش ہے اور جو ریاکاری کرے گا اللہ اسے اس کی ریاکاری کی سزا دے گا ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن مسعود کی حدیث کو ہم صرف زیاد بن عبداللہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں ۔ اور زیاد بن عبداللہ بہت زیادہ غریب اور منکر احادیث بیان کرتے ہیں ، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو سنا کہ وہ محمد بن عقبہ سے نقل کر رہے تھے کہ وکیع کہتے ہیں : زیاد بن عبداللہ اس بات سے بہت بلند ہیں کہ وہ حدیث میں جھوٹ بولیں ۔
۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولیمہ دو دن تک تو درست ہے اور تیسرے دن اس کا اہتمام کرنا دکھاوا اور نمائش کا ذریعہ ہے اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تیسرے دن کی ممانعت اس صورت میں ہے جب کھانے والے وہی لوگ ہوں لیکن اگر ہر روز نئے لوگ مدعو ہوں، تو کوئی حرج نہیں، امام بخاری جیسے محدثین کرام تو سات دن تک ولیمہ کے قائل ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پہلے روز کا کھانا حق ہے، دوسرے روز کا کھانا سنت ہے۔ اور تیسرے روز کا کھانا تو محض دکھاوا اور نمائش ہے اور جو ریاکاری کرے گا اللہ اسے اس کی ریاکاری کی سزا دے گا ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1097]
وضاحت:
1؎:
ترمذی کے نسخوں میں یہاں پرعبارت یوں ہے: (مع شرفه يكذب) جس کا مطلب یہ ہے کہ وکیع نے ان پر سخت جرح کی ہے، اور ان کی شرافت کے اعتراف کے ساتھ ان کے بارے میں یہ صراحت کردی ہے کہ وہ حدیث میں جھوٹ بولتے ہیں، اور یہ بالکل غلط اور وکیع کے قول کے برعکس ہے، التاریخ الکبیرللبخاری 3/الترجمۃ 1218 اور تہذیب الکمال میں عبارت یوں ہے: (هو أشرف من أن يكذب) نیز حافظ ابن حجر نے تقریب میں لکھا ہے کہ وکیع سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے زیادکی تکذیب کی ہے، ان کی عبارت یہ ہے: (صدوق ثبت في المغازي و في حديثه عن غير ابن إسحاق لين، ولم يثبت أن وكيعا كذبه، وله في البخاري موضع واحد متابعة) یعنی زیاد بن عبد اللہ عامری بکائی کوفی فن مغازی وسیر میں صدوق اور ثقہ ہیں، اور محمدبن اسحاق صاحب المغازی کے سوا دوسرے رواۃ سے ان کی حدیث میں کمزوری ہے، وکیع سے ان کی تکذیب ثابت نہیں ہے، اور صحیح بخاری میں ان کا ذکرمتابعت میں ایک بارآیا ہے۔
(الفریوائی)
2؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولیمہ دودن تک تودرست ہے اورتیسرے دن اس کا اہتمام کرنا دکھاوااورنمائش کاذریعہ ہے اوربعض لوگوں کاکہناہے کہ تیسرے دن کی ممانعت اس صورت میں ہے جب کھانے والے وہی لوگ ہوں لیکن اگر ہرروزنئے لوگ مدعو ہوں، توکوئی حرج نہیں، امام بخاری جیسے محدثین کرام توسات دن تک ولیمہ کے قائل ہیں۔
نوٹ(اس کے راوی زیاد بن عبداللہ بکائی میں ضعف ہے، مؤلف نے اس کی صراحت کردی ہے، لیکن آخری ٹکڑے کے صحیح شواہد موجودہیں جن میں سے بعض صحیحین میں ہیں)