حدیث نمبر: 1091
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ ، قَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي الْخَيْرِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کرنے پر جب کسی کو مبارک باد دیتے تو فرماتے : «بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في الخير» ” اللہ تجھے برکت عطا کرے ، اور تجھ پر برکت نازل فرمائے اور تم دونوں کو خیر پر جمع کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1091
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2905)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ النکاح 37 (2130) ، سنن ابن ماجہ/النکاح 23 (1905) ، ( تحفة الأشراف : 12698) ، مسند احمد (2/381) ، سنن الدارمی/النکاح 6 (2219) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2130 | سنن ابن ماجه: 1905 | بلوغ المرام: 828

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2130 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دولہا کو کیا دعا دے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: «بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في خير» " اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں کو خیر پر جمع کر دے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2130]
فوائد ومسائل:
خوشی کے ان مواقع پر اس طرح کی پاکيزہ اور مسنون دعا مبارکباد دينی چاہيے جو کہ الفت مودت اور اضافہ کے ظاہری وباطنی تمام معاني کو محيط ہے؟
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2130 سے ماخوذ ہے۔