حدیث نمبر: 1089
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ فِي هَذَا الْبَابِ ، وَعِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ، وَعِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الَّذِي يَرْوِي عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ التَّفْسِيرَ هُوَ ثِقَةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نکاح کا اعلان کرو ، اسے مسجدوں میں کرو اور اس پر دف بجاؤ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں یہ حدیث غریب حسن ہے ، ۲- عیسیٰ بن میمون انصاری حدیث میں ضعیف قرار دیے جاتے ہیں ، ۳- عیسیٰ بن میمون جو ابن ابی نجیح سے تفسیر روایت کرتے ہیں ، ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1089
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف إلا الإعلان، ابن ماجة (1895) // ضعيف ابن ماجة (416) ، صحيح ابن ماجة (1537) ، الإرواء (1993) ، آداب الزفاف الصفحة (111) الطبعة المزيدة والمهذبة، طبع المكتب الإسلامي، ضعيف الجامع الصغير (966) // , شیخ زبیر علی زئی: (1089) إسناده ضعيف /جه 1895, عيسى بن ميمون : ضعيف (تق:5335) بل: متروك الحديث (التحرير 145/3) وطريق ابن ماجه فيه متروك
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف : 17547) (ضعیف) (سند میں عیسیٰ بن میمون ضعیف ہیں مگر اعلان والا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1895

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نکاح کے اعلان کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نکاح کا اعلان کرو، اسے مسجدوں میں کرو اور اس پر دف بجاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1089]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عیسیٰ بن میمون ضعیف ہیں مگراعلان والا ٹکڑا شواہد کی بناپر صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1089 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1895 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نکاح کے اعلان کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نکاح کا اعلان کرو اور اس پر دف بجاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1895]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نکاح کا اعلان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایجاب و قبول مسلمانوں کی مجلس میں کیا جائے اور ولیمے کی دعوت کی جائے تاکہ عام لوگوں کو اس کا علم ہو جائے کہ فلاں شخص کا نکاح فلاں خاتون سے ہوا ہے۔
اس طرح ناجائز تعلقات کا راستہ بند ہو جائے گا۔

(2)
اس روایت کا پہلا حصہ شیخ البانی رحمة الله عليه  کے نزدیک حسن ہے۔
دیکھیئے: (إرواء الغلیل: 7؍50، رقم: 1993)
تاہم دف بجانے کا ذکر بھی دیگر روایات سے ثابت ہے، بشرطیکہ شرعی حدود کے اندر ہو جیسا کہ آگے وضاحت آرہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1895 سے ماخوذ ہے۔