سنن ترمذي
كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ التَّبَتُّلِ باب: بے شادی زندگی گزارنے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، وإسحاق بن إبراهيم البصري، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَزَادَ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ فِي حَدِيثِهِ ، وَقَرَأَ قَتَادَةُ : وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً سورة الرعد آية 38 . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ سَعْدٍ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَرَوَى الْأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَيُقَالُ : كِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ .´سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شادی زندگی گزارنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- زید بن اخزم نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ قتادہ نے یہ آیت کریمہ : «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» ۲؎ ” ہم آپ سے پہلے کئی رسول بھیج چکے ہیں ، ہم نے انہیں بیویاں عطا کیں اور اولادیں “ پڑھی ۳؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اشعث بن عبدالملک نے یہ حدیث بطریق : «الحسن عن سعد بن هشام عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے ، ۳- کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں ہی حدیثیں صحیح ہیں ، ۴- اس باب میں سعد ، انس بن مالک ، عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۲؎: الرعد: ۳۸۔
۳؎: آیت میں «ازواجاً» سے رہبانیت اور «ذریّۃ» سے خاندانی منصوبہ بندی (فیملی پلاننگ) کی تردید ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شادی زندگی گزارنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1082]
وضاحت:
1؎:
تبتل کے معنی عورتوں سے الگ رہنے، نکاح نہ کرنے اورازدواجی تعلق سے کنارہ کش رہنے کے ہیں۔
2؎:
الرعد: 38۔
3؎:
آیت میں ’’ازواجاً ‘‘ سے رہبانیت اور’’ذریّة‘‘ سے خاندانی منصوبہ بندی (فیملی پلاننگ) کی تردید ہوتی ہے۔