حدیث نمبر: 1076
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا أُمُّ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُنْيَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي بَرْزَةَ، عَنْ جَدِّهَا أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَزَّى ثَكْلَى كُسِيَ بُرْدًا فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی ایسی عورت کی تعزیت ( ماتم پرسی ) کی جس کا لڑکا مر گیا ہو ، تو اسے جنت میں اس کے بدلہ ایک عمدہ کپڑا پہنایا جائے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- اس کی سند قوی نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1076
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (1738) // ضعيف الجامع الصغير (5695) ، الإرواء (764) // , شیخ زبیر علی زئی: (1076) إسناده ضعيف, منية ،لا يعرف حالھا (تق:8687)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11609) (ضعیف) (اس کی راویہ ’’ منیہ ‘‘ مجہول الحال ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تعزیت کی فضیلت کا بیان۔`
ابوبرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ایسی عورت کی تعزیت (ماتم پرسی) کی جس کا لڑکا مر گیا ہو، تو اسے جنت میں اس کے بدلہ ایک عمدہ کپڑا پہنایا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1076]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کی راویہ ’’منیہ‘‘ مجہول الحال ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1076 سے ماخوذ ہے۔