سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي أَجْرِ مَنْ عَزَّى مُصَابًا باب: مصیبت زدہ کی تعزیت کے اجر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1073
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاللَّهِ ! مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَيُقَالُ : أَكْثَرُ مَا ابْتُلِيَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَقَمُوا عَلَيْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مصیبت زدہ کی ( تعزیت ) ماتم پرسی کی ، اسے بھی اس کے برابر اجر ملے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف علی بن عاصم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں ، بعض لوگوں نے محمد بن سوقہ سے اسی جیسی حدیث اسی سند سے موقوفاً روایت کی ہے ۔ اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے ، ۳- کہا جاتا ہے کہ علی بن عاصم پر جو زیادہ طعن ہوا ، اور لوگوں نے ان پر نکیر کی ہے وہ اسی حدیث کے سبب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مصیبت زدہ کی تعزیت کے اجر کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے کسی مصیبت زدہ کی (تعزیت) ماتم پرسی کی، اسے بھی اس کے برابر اجر ملے گا۔" [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1073]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے کسی مصیبت زدہ کی (تعزیت) ماتم پرسی کی، اسے بھی اس کے برابر اجر ملے گا۔" [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1073]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں علی بن عاصم بہت غلطی کرتے تھے اور اپنی غلطی پر اصرار بھی کرتے تھے)
نوٹ:
(سند میں علی بن عاصم بہت غلطی کرتے تھے اور اپنی غلطی پر اصرار بھی کرتے تھے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1073 سے ماخوذ ہے۔