سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْمَدْيُونِ باب: قرض دار کی نماز جنازہ کا بیان۔
حَدَّثَنِي أَبُو الْفَضْلِ مَكْتُومُ بْنُ الْعَبَّاسِ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ ، فَيَقُولُ : " هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ " ، فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ ، وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَامَ ، فَقَالَ : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا عَلَيَّ قَضَاؤُهُ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی فوت شدہ شخص جس پر قرض ہو لایا جاتا تو آپ پوچھتے : ” کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے ؟ “ اگر آپ کو بتایا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے اس کے قرض کی مکمل ادائیگی ہو جائے گی تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ، ورنہ مسلمانوں سے فرماتے : ” تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھ سکتا ) “ ، پھر جب اللہ نے آپ کے لیے فتوحات کا دروازہ کھولا تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا : ” میں مسلمانوں کا ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حقدار ہوں ۔ تو مسلمانوں میں سے جس کی موت ہو جائے اور وہ قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو کوئی مال چھوڑ کر جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اسے یحییٰ بن بکیر اور دیگر کئی لوگوں نے لیث بن سعد سے عبداللہ بن صالح کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
آنحضرت ﷺ نے اس کی وجہ سے نماز نہیں پڑھائی، اسی لیے قرض سے ہمیشہ بچنے کی دعا کرنا ضروری ہے۔
اگر مجبوراً قرض لینا پڑے تو اس کی ادائیگی کی کامل نیت رکھنا چاہئے۔
اس طرح اللہ پاک بھی اس کی مدد کرے گا۔
اور اگر دل میں بے ایمانی ہو تو پھر اللہ بھی ایسے ظالم کی مدد نہیں کرتا ہے۔
(1)
ہر پیغمبر کا یہ منصب ہے کہ وہ اہل ایمان کا سب سے زیادہ خیر خواہ ہوتا ہے، اس کے بعد اسلامی حکومت پر یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ قرض چھوڑنے والوں کا قرض اتارنے کا بندوبست کرے، بشرطیکہ اس کا ترکہ قرض کی ادائیگی کے لیے ناکافی ہو۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرض انتہائی بری بلا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کی موجودگی میں نماز جنازہ نہیں پڑھائی، نیز آپ ﷺ قرض سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔
اگر کسی مجبوری کی وجہ سے قرض لینا پڑے تو اس کی ادائیگی کی فکر دامن گیر ہونی چاہیے۔
اگر اسے ادا کرنے کی نیت ہے تو اللہ تعالیٰ مقروض کی مدد کرتا ہے اور اگر دل میں قرض کی ادائیگی کے متعلق فتور ہے تو ایسے ظالم انسان کی اللہ مدد نہیں کرتا۔
(1)
سعید بن مسیّب کہتے ہیں کہ جو شخص، دشمن کے ہاتھوں قیدی ہو اسے وراثت میں حصہ دار نہ بنایا جائے لیکن جمہور اہل علم کہتے ہیں کہ قیدی کو وراثت میں حصہ دار بنایا جائے گا اور اس کی وصیت کو بھی نافذ کیا جائے گا کیونکہ جب قیدی مسلمان ہے تو وہ درج بالا حدیث کے عموم میں داخل ہے کہ جس نے مال چھوڑا وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے۔
قیدی بھی اس کا وارث ہے۔
صرف قید ہونے کی بنا پر اسے وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح جب تک وہ زندہ ہے اس کی بیوی کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی اور اس کا مال بھی تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
اگر اس کی زندگی کا علم نہ ہو اور نہ اس کے مقام ہی کا کوئی اتاپتا ہو تو اسے مفقود کے حکم میں شامل کیا جائے گا۔
(2)
دوران حراست میں اگر اس کے مرتد ہونے کی خبر ملے تو جب تک اس بات کا علم نہ ہو کہ وہ اپنی مرضی سے مرتد ہوا ہے اس وقت تک اس پر مرتد کے احکام بھی جاری نہیں ہوں گے۔
ممکن ہے کہ دوران حراست میں کسی مجبوری کی وجہ سے اس نے ارتداد کا لبادہ اوڑھا ہو۔
(فتح الباري: 60/12)
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۂ احزاب کی آیت: 6 تلاوت کرتے اور فرماتے: ’’جس نے قرض یا لاوارث اولاد چھوڑی ہو، میں ان کا سرپرست ہوں اور ان کی نگہداشت میری ذمہ داری ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الاستقراض، حدیث: 2399) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو کتاب النفقات میں اس لیے بیان کیا ہے کہ مسلمانوں میں اگر کوئی نادار اولاد چھوڑ جائے تو اس اولاد کی پرورش بیت المال سے کی جائے گی۔
دور حاضر میں ایسے لا وارث بچوں کا خرچہ مال زکاۃ سے ادا کیا جا سکتا ہے۔
یہ مسلمانوں کا انتہائی اہم فریضہ ہے۔
واللہ أعلم
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو یہاں مختصر طور پر بیان کیا ہے۔
ایک دوسری روایت میں تفصیل ہے۔
اس کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی میت لائی جاتی اور اس کے ذمے قرض ہوتا تو آپ اس کے متعلق دریافت فرماتے: ’’کیا اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ مال چھوڑا ہے؟‘‘ اگر بتایا جاتا کہ اس نے مال چھوڑا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھتے بصورت دیگر فرماتے: ’’تم خود اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔
‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات کا دروازہ کھول دیا تو آپ فرماتے: ’’میں اہل ایمان کا خود ان سے زیادہ حق دار ہوں۔
ان میں سے اگر کوئی مقروض فوت ہو اور ادائیگی کے لیے کچھ نہ چھوڑا ہو تو ہم پر اس کی ادائیگی ہے اور جس نے مال چھوڑا ہے تو وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الکفالة، حدیث: 2298)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں دنیا و آخرت میں اہل ایمان سے زیادہ قربت رکھنے والا ہوں، اگر چاہو تو یہ پڑھ لو: ’’بلاشبہ نبی اہل ایمان کے لیے ان کی اپنی ذات سے بھی زیادہ خیرخواہ ہے، لہذا اگر کوئی مومن فوت ہو جائے اور اس کا مال ہو تو وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے، وہ جو بھی ہوں اور اگر قرض اور بال بچے چھوڑ گیا ہے تو وہ میرے پاس آئیں میں ان کا ضامن ہوں۔
‘‘ (صحیح البخاري، الاستقراض، حدیث: 2399) (2)
غریب، تنگدست میت کا قرض اتارنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے جو آپ اپنے مال خالص سے ادا کرتے تھے۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ آپ بیت المال سے دیتے تھے، ان کے ہاں یہ ذمہ داری اسلامی حکومت کی ہے۔
واللہ أعلم
یعنی بیت المال میں سے یہ خرچہ دیا جائے گا۔
سبحان اللہ! اس سے زیادہ شفقت اور عنایت کیا ہوگی۔
جو حضرت رسول کریم ﷺ کو اپنی امت سے تھی۔
باپ بھی بیٹے پر اتنا مہربان نہیں ہوتا جتنے آنحضرت ﷺ کی مسلمانوں پر مہربانی تھی۔
یہی وجہ تھی کہ مسلمان سب برابر کے شریک تھے اور بیت المال یعنی خزانہ ملک سارے مسلمانوں کا حصہ تھا۔
یہ نہیں کہ وہ بادشاہ کا ذاتی سمجھا جائے کہ جس طرح چاہئے، اپنی خواہشوں میں اس کو اڑائے اور مسلمان فاقے مرتے رہیں۔
جیسے ہمارے زمانے میں عموماً مسلمان رئیسوں اور نوابوں کا حال ہے اللہ ان کو ہدایت کرے۔
﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ﴾ (الأحزاب: 6)
یعنی جتنا ہر مومن خود اپنی جان پر آپ مہربان ہوتا ہے اس سے زیادہ آنحضرت ﷺ اس پر مہربان ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی گناہ اور کفر کرکے اپنے تئیں ہلاکت ابدی میں ڈالنا چاہتا ہے۔
اور آنحضرت ﷺ اس کو بچانا چاہتے ہیں۔
اور فلاح ابدی کی طرف لے جانا۔
اس لیے آپ ہر مومن پر خود اس کے نفس سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔
اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جو نادار غریب مسلمان بحالت قرض انتقال کر جائیں، بات المال سے ان کے قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔
بیت المال سے وہ خزانہ مراد ہے جو اسلامی خلافت کی تحویل میں ہوتا ہے۔
جن میں اموال غنائم، اموال زکوٰۃ اور دیگر قسم کی اسلامی آمدنیاں جمع ہوتی ہیں۔
اس بیت المال کا ایک مصرف نادار غریب مساکین کے قرضوں کی ادائیگی بھی ہے۔
رسول اللہ ﷺ اہل ایمان پر بہت مہربان ہیں کیونکہ انسان گناہ کر کے خود کو ہلاکت اور بربادی میں ڈالنا چاہتا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ اسے بچانا چاہتے ہیں، اس لیے آپ اہل ایمان پر خود ان سے زیادہ مہربان ہیں، اسی مہربانی کا نتیجہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو مومن فوت ہو جائے تو اس کے مال کے وارث اس کے قریبی رشتہ دار ہوں گے اور جو قرض یا بے سہارا بچے چھوڑ جائیں اس کی سرپرستی رسول اللہ ﷺ کے ذمے ہے۔
رسول اللہ ﷺ پہلے مقروض کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے لیکن فتوحات کے بعد ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھنا شروع کر دی۔
(1)
بظاہر اس عنوان کا مقام کتاب الجنائز ہے، پھر اس حدیث میں نماز جنازہ کا کوئی ذکر نہیں ہے؟ دراصل امام بخاری ؒ نے آغاز کار کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ابتدائے اسلام میں اگر کوئی مر جاتا اور اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ نہ چھوڑ جاتا تو آپ اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھایا کرتے تھے۔
بعد میں جب فتوحات کا زمانہ آیا تو آپ نے میت کا قرض بیت المال کے ذمے کر دیا۔
(2)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مرنے والے کے پاس قرض کی ادائیگی کا سامان نہیں ہے تو اس کا قرض بیت المال کی طرف سے ادا کیا جائے گا، لیکن اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ لوگ قرض لے کر فضول خرچیاں کریں اور اس امید پر اسراف کریں کہ بیت المال کی طرف سے ادا کر دیا جائے گا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس پہلو پر کڑی نظر رکھے تاکہ لوگ اس سہولت سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔
سبحان اللہ اس شفقت اورمہر بانی کا کیا کہنا۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
دینی اعتبار سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ اہل ایمان کے خیر خواہ ہیں کیونکہ انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعے سے ہدایت کا راستہ ملا ہے جس میں ہماری دنیوی اور اخروی کا میابی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حد درجہ خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مسلمان بھی آپ کا دوسرے سب لوگوں سے بڑھ کر احترام کریں اور آپ کی اطاعت کو بجا لائیں تاکہ آپ کی تعلیم وتربیت سے پوری طرح فیض یاب ہوا جا سکے جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے میرے ساتھ، اپنی اولاد اپنے والدین اور سب لوگوں سے زیادہ محبت نہ ہو۔
‘‘(صحیح البخاري۔
الإیمان، حدیث: 15)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے (مرنے کے بعد) کوئی مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس نے ایسی اولاد چھوڑی جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو اس کی کفالت میرے ذمہ ہے۔" [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2090]
وضاحت: 1 ؎: ایسے مسلمان یتیموں اوربیواؤں کی کفالت اس حدیث کی رُوسے مسلم حاکم کے ذمّے ہے کہ جن کا مورث اُن کے لیے کوئی وراثت چھوڑکرنہ مراہو۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن مرتا اور اس پر قرض ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: " کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ " اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ کہتے: " تم اپنے ساتھی پر نماز (جنازہ) پڑھ لو۔" پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح و نصرت کا دروازہ کھولا، تو آپ نے فرمایا: " میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں، تو جو وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو (اس کی ادائیگی) مجھ پر ہے، اور اگر کوئی مال چھوڑ کر گیا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔" [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1965]
اس حدیث سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، نیز اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔