مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1069
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَال : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا " ، قَالَ : أَبُو قَتَادَةَ : هُوَ عَلَيَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِالْوَفَاءِ " ، قَالَ : بِالْوَفَاءِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ جَابِرٍ ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو کیونکہ اس پر قرض ہے “ ۔ ( میں نہیں پڑھوں گا ) اس پر ابوقتادہ نے عرض کیا : اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” پورا پورا ادا کرو گے ؟ “ تو انہوں نے کہا : ( ہاں ) پورا پورا ادا کریں گے تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں جابر ، سلمہ بن الاکوع ، اسماء بنت یزید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1069
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2407)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2407 | سنن نسائي: 1962 | سنن نسائي: 4696

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2407 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ضمانت کا بیان۔`
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھوں گا) اس لیے کہ وہ قرض دار ہے ، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اس کے قرض کی ضمانت لیتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا ادا کرنا ہو گا ، انہوں نے کہا: جی ہاں، پورا ادا کروں گا، اس پر اٹھارہ یا انیس درہم قرض تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2407]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
امام کےلیےجائزہےکہ کسی بڑے گناہ کےمرتکب کاجنازہ پڑھنے سےانکارکردے تاکہ دوسروں کو تنبیہ ہولیکن موجودہ حالات میں یہ کام کسی بڑے عالم ہی کوکرنا چاہیے جس کاعوام پراثرہو۔
عام ائمہ مساجد کی یہ پوزیشن نہیں کہ ان کےنماز جنازہ ادا نہ کرنےسےعوام اثرقبول کریں بلکہ منفی اثرات زیادہ ہونےکا امکان ہے، تاہم دوسرے مناسب طریقے سےتنبیہ ضرور کردیں۔

(2)
کبیرہ گناہ کےمرتکب کو بھی بلا جنازہ دفن نہیں کرنا چاہیے۔

(3)
میت کی طرف سےادائیگی کی ذمہ داری اٹھا لینا درست ہےبلکہ یہ اس پراوراس کے لواحقین پراحسان ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2407 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1962 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مقروض آدمی کی نماز جنازہ کا بیان۔`
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھتا) کیونکہ اس پر قرض ہے ، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے ذمہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اس کی ادائیگی کرو گے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں میں اس کی ادائیگی کروں گا، تب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1962]
1962۔ اردو حاشیہ: ➊ پہلے پہل آپ کا معمول یہی تھا کہ مقروض میت جو ادائیگی کے لیے مال نہ چھوڑ کر فوت ہوتا، اس کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے، البتہ کوئی شخص سچے دل سے قرض ادا کرنا چاہتا تھا مگر ادا نہ کرسکا تو ایسا مجبور شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہ گار نہیں۔ بعد میں بیت المال میں وسعت ہو گئی تو آپ جنازہ پڑھ لیتے تھے اور ادائیگی بیت المال سے فرما دیتے تھے۔ جس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے: «فمن توفي من المؤمنین فترک دینا فعلي قضاوہ، ومن ترک مالا فلورئتہ» (صحیح البخاري، الکفالۃ، حدیث: 2398، و صحیح مسلم، الفرائض، حدیث: 1619) بہرحال ہر گناہ گار میت کا جنازہ ضرور ہونا چاہیے۔
➋ میت کے ذمے اگر قرض وغریہ ہو تو کوئی شخص اسے اپنے ذمے لے سکتا ہے، اور اس کی ذمہ داری قبول کی جا سکتی ہے، یہ ناجائز نہیں جیسے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1962 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4696 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´قرض کی ضمانت لینے کا بیان۔`
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تاکہ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں، آپ نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی پر قرض ہے ، ابوقتادہ نے کہا: میں اس کی ضمانت لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا ادا کرو گے؟ کہا: جی ہاں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4696]
اردو حاشہ: (1) ابتدا میں آپ کا طرز عمل یہی تھا کہ اگر میت کے ذمے قرض ہوتا اور اس کے ترکے میں اس کے مطابق مال نہ ہوتا تو آپ بذات خود جنازہ نہ پڑھتے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرما دیتے کہ تم پڑھ لو۔ پھر جب بیت المال میں وسعت ہوگئی تو آپ نے اعلان فرما دیا کہ جو شخص مقروض فوت ہو جائے تو اس کا قرض حکومت ادا کرے گی۔ گویا حکومت کی ذمہ داری میں یہ چیز بھی شامل ہے۔
(2) میت کے قرض کی کفالت جمہور اہل علم کے نزدیک صحیح ہے۔ وہ کفیل نہ تو بعد میں انکار کر سکتا ہے نہ میت کے مال سے وصول کر سکتا ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ میت کی طرف سے کفالت کو جائز نہیں سمجھتے اگر اس نے مال نہ چھوڑا ہو، حالانکہ اگر کوئی شخص ثواب کی نیت سے میت کا قرض ادا کرنے کی ذمہ داری اٹھائے تو اس میں کیا حرج ہے؟
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4696 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔