سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ باب: خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، وَشَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، " أَنّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : يُصَلَّى عَلَى كُلِّ مَنْ صَلَّى إِلَى الْقِبْلَةِ ، وَعَلَى قَاتِلِ النَّفْسِ ، وَهُوَ قَوْلُ : الثَّوْرِيِّ ، وَإِسْحَاق ، وقَالَ أَحْمَدُ : لَا يُصَلِّي الْإِمَامُ عَلَى قَاتِلِ النَّفْسِ وَيُصَلِّي عَلَيْهِ غَيْرُ الْإِمَامِ .´جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے خودکشی کر لی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس مسئلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، بعض کہتے ہیں کہ ہر شخص کی نماز پڑھی جائے گی جو قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہو اور خودکشی کرنے والے کی بھی پڑھی جائے گی ۔ ثوری اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ۳- اور احمد کہتے ہیں : امام خودکشی کرنے والے کی نماز نہیں پڑھے گا ، البتہ ( مسلمانوں کے مسلمان حاکم ) امام کے علاوہ لوگ پڑھیں گے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے تیر کی انی سے خودکشی کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رہا میں تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1966]
مشاقص: مفرد۔
مشقص: چوڑے تیر۔
فوائد ومسائل: حضرت عمر بن عبدالعزیز اور امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ کا مؤقف یہی ہے کہ قاتل نفس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی لیکن امام حسن رحمۃ اللہ علیہ۔
قتادہ رحمۃ اللہ علیہ۔
نخعی رحمۃ اللہ علیہ، مالک رحمۃ اللہ علیہ، ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور علماء کے نزدیک خود کشی کرنے والے مسلمان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی، آپﷺ نے اس فعل اور حرکت سے باز رکھنے کے لیے توبیخ وسرزنش کے طور پر جنازہ نہیں پڑھا، جیسا کہ نسائی کی روایت میں ہے۔
(أنا لا أصلي)
میں نماز جنازہ نہیں پڑھتا۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو جنازہ پڑھنے سے نہیں روکا، اس لیے معلوم ہوتا ہے۔
قابل احترام اور صاحب شخصیت کو جس کے نماز میں شریک نہ ہونے سے لوگ متاثر ہوں، نماز نہیں پڑھنی چاہیے اور عام مسلمانوں کو جنازہ پڑھنا چاہیے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول یہی ہے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ قاتل نفس توبہ کا موقع نہیں پاتا۔
اس لیے اس کی توجہ نہ ہونے کے بنا پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائےگی۔
جس کا مطلب یہ ہوا، اگر اس کو کچھ زندگی ملی، جس میں توبہ کر سکا۔
تو پھر نماز جنازہ پڑھنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہو گی۔
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص بیمار ہوا پھر اس کی موت کی خبر پھیلی تو اس کا پڑوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ وہ مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ “، وہ بولا: میں اسے دیکھ کر آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ نہیں مرا ہے “، وہ پھر لوٹ گیا، پھر اس کے مرنے کی خبر پھیلی، پھر وہی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: وہ مر گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ نہیں مرا ہے “، تو وہ پھر لوٹ گیا، اس کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3185]
خود کشی گویا اللہ کی تقدیر سے ناراضی کا اظہار ہے۔
اس لئے امام اعظم اور دیگر معتبر شخصیات اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔
تاکہ دوسروں کو عبرت ہو اور عام مسلمان پڑھیں۔
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص زخمی ہوا، اور زخم نے اسے کافی تکلیف پہنچائی، تو وہ آہستہ آہستہ تیر کی انی کے پاس گیا، اور اس سے اپنے کو ذبح کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو ۱؎۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1526]
فوائد و مسائل:
(1)
خود کشی کبیرہ گناہ ہے۔
(2)
کبیرہ گناہ کے مرتکب کا جنازہ پڑھانے سے اگر معزز اور عالم لوگ اجتناب کریں تو اس سے دوسروں کو عبرت ہوگی۔
اور وہ اس گناہ سے بچنے کی کوشش کریں گے لیکن عوام کو ایسے شخص کا جنازہ پڑھنا چاہیے۔
بغیر جنازہ پڑھے دفن نہ کیا جائے۔
(3)
ایسے مواقع پر امام کو حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا چاہیے۔
اگر اس کے انکار سے غیر مطلوب نتائج برآمد ہونے کا خطرہ ہو اور فائدے سے نقصان بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو جنازہ پڑھانے سے انکار نہ کیاجائے۔
دوسرے موقع پرمناسب انداز سے نصیحت کی جائے۔
”سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی لایا گیا جس نے تیر سے خودکشی کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 446]
«اُتِيَ» صیغہ مجہول ہے اور اس کے معنی ہیں، لایا گیا۔
«بِمَشَاقِصَ» «مِشْقَصٌ» کی ”میم“ کے نیچے کسرہ ہے۔ چوڑا نیزہ۔
«فَلَمٰ يُصلَّ عَلَيْهِ» اس پر نماز جنازہ نہ پڑھی۔ اس کی سزا کے طور پر خود نماز جنازہ نہ پڑھی۔ اور اس جیسا فعل کرنے والوں کو خوف زدہ کرنے اور ڈرانے، دھمکانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا۔
فائدہ: خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنے میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کی نماز جنازہ بالکل نہیں پڑھی جائے گی اور ایک قول یہ ہے کہ قوم کے معزز و فضلاء اور معتبر شخصیات تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھیں گی، البتہ عام لوگ پڑھیں گے کیونکہ سنن نسائی میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“ [سنن النسائي، الجنائز، باب ترك الصلاة على من قتل نفسه، حديث: 1966]
یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم نے نماز جنازہ پڑھی تھی، جیسے ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقروض کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے، البتہ صحابہ کو فرما دیتے تھے کہ تم جنازہ پڑھو اور دوسرا موقف ہی راجح معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔